👕 محاورہ: "اپنے گریبان میں منھ ڈالنا"


 

👕 محاورہ: "اپنے گریبان میں منھ ڈالنا"

🗣️ تلفظ (Apnē girēbān mēṅ muṅh ḍālnā) 🎙️

📖 معانی و مفہوم اس محاورے کا گہرا اخلاقی مطلب ہے، جس سے مراد ہے:

  • دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو دیکھنا۔ 🔍

  • اپنے اعمال، افعال اور کردار کا ایمانداری سے جائزہ لینا (محاسبہ کرنا)۔

  • اپنی خامیوں کو پہچاننا اور شرمندگی کا احساس کرنا۔

🔹 سادہ الفاظ میں: دوسروں کی عیب جوئی چھوڑ کر اپنی اصلاح کی فکر کرنا۔ 🤔✨

📍 موقع و محل یہ محاورہ عام طور پر نصیحت کے طور پر یا کسی کو خاموش کرانے کے لیے بولا جاتا ہے:

  • جب کوئی شخص خود برائیوں میں مبتلا ہو مگر دوسروں کو اخلاق کا سبق دے رہا ہو۔

  • جب کوئی اپنی غلطی ماننے کے بجائے سارا ملبہ دوسروں پر ڈال دے۔

  • طنزیہ طور پر بھی استعمال ہوتا ہے تاکہ سامنے والا اپنی اوقات یا کرتوت یاد کرے۔

مثال: "دوسروں کو چور کہنے سے پہلے ذرا اپنے گریبان میں منھ ڈال کر دیکھو کہ تم خود کتنے سچے ہو!" 🤐

📜 تاریخ و پس منظر گریبان قمیص یا کرتے کے گلے والے حصے کو کہتے ہیں۔ قدیم دور سے ہی 'گریبان میں سر جھکا کر دیکھنا' شرمندگی یا خود کلامی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس محاورے کا تصور یہ ہے کہ انسان کا اپنا جسم اور لباس اس کے سب سے قریب ہے؛ اگر وہ دوسروں کی دور کی خامیاں دیکھنے کے بجائے اپنے قریب یعنی اپنے سینے اور دل (گریبان) کی طرف جھکے، تو اسے اپنی ہزاروں برائیاں نظر آ جائیں گی۔ یہ تصوف اور اخلاقیات کا ایک اہم جزو رہا ہے۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک صاحب محفل میں بیٹھ کر پورے شہر کی برائیاں کر رہے تھے۔ کہنے لگے: "صاحبو! آج کل مخلص بندہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا، ہر دوسرا شخص جھوٹا اور فریبی ہو گیا ہے، معاشرہ تباہ ہو گیا ہے!" 🗣️📢 ایک بزرگ قریب ہی بیٹھے تھے، انہوں نے اطمینان سے کہا: "بیٹا! دوسروں کے گھروں کی کھڑکیاں گندی بتانے سے بہتر ہے کہ ذرا اپنے گریبان میں منھ ڈال کر دیکھ لو، شاید اپنی ہی عینک پر مٹی جمی ہو!" وہ صاحب ایسے شرمندہ ہوئے کہ اپنی قمیص کا بٹن ٹھیک کرتے ہوئے وہاں سے کھسک لیے۔ 😂🏃‍♂️

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں