انسانی مصائب اور شرک کی حقیقت
"انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں، اتنی کسی بھی دوسرے جاندار کو پیش نہیں آتیں۔"
سبق نمبر 27
آیاتِ مبارکہ
قُلْ مَنْ يُنَجِّيكُم مِّنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِينَ قُلِ اللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَىٰ أَن يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّن فَوْقِكُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُم بَأْسَ بَعْضٍ ۗ انظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَفْقَهُونَ وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ۚ قُل لَّسْتُ عَلَيْكُم بِوَكِيلٍ لِكُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (سورۃ الانعام: آیات ۶۳ تا ۶۷)
ترجمہ
"کہو، کون تم کو نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے، تم اس کو پکارتے ہو عاجزی سے اور چپکے چپکے کہ اگر اللہ نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکر گزار بندوں میں سے بن جائیں گے۔ کہو، اللہ ہی تم کو نجات دیتا ہے اس سے اور ہر تکلیف سے، پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔ کہو، اللہ قادر ہے اس پر کہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے، تمہارے اوپر سے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے یا تم کو گروہ گروہ کر کے ایک کو دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو، ہم کس طرح دلائل مختلف پہلوؤں سے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں۔ اور تمہاری قوم نے اس کو جھٹلا دیا ہے حالانکہ وہ حق ہے۔ کہو، میں تمہارے اوپر داروغہ نہیں ہوں۔ ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور تم جلد ہی جان لو گے۔"
تشریح و تجزیہ
انسان کو اس دنیا میں جتنی مصیبتیں پیش آتی ہیں، اتنی کسی بھی دوسرے جاندار کو پیش نہیں آتیں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ آدمی پر ایسے حالات طاری کیے جائیں جب کہ اس کے اندر سے تمام مصنوعی خیالات ختم ہو جائیں اور آدمی اپنی اصلی فطرت کو دیکھ سکے۔
مصیبت کا وقت: جب بھی آدمی پر کوئی کڑی مصیبت پڑتی ہے تو وہ ایک سو ہو کر اللہ کو پکارنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے ذہن سے تمام بناوٹی پردے ہٹ جاتے ہیں۔
فطرت کا شعور: وہ جان لیتا ہے کہ اس دنیا میں انسان تمام تر عاجز ہے اور ساری قدرت صرف اللہ کو حاصل ہے، مگر جیسے ہی مصیبت کے حالات ختم ہوتے ہیں، وہ بدستور غفلت کا شکار ہو کر ویسا ہی بن جاتا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا۔
شرک کی مختلف صورتیں
شرک کی اصل حقیقت: اللہ کے سوا کسی دوسری چیز پر اعتماد کرنا ہے، اور توحید یہ ہے کہ آدمی کا سارا اعتماد اللہ پر ہو جائے۔
اعتمادی شرک: شرک کی ایک صورت وہ ہے جو بُتوں اور دوسرے مظاہرِ پرستش کے ساتھ پیش آتی ہے۔
نفسیاتی شرک (گھمنڈ): شرک کی زیادہ عام صورت یہ ہے کہ آدمی خود اپنے کو بہت کچھ سمجھنے لگے، وہ اپنے آپ پر اعتماد کرنے لگے۔
آدمی جب اکثر غرور سے چلتا ہے تو گویا وہ اپنے جسم و جان پر اعتماد کر رہا ہے۔
آدمی جب اپنی کمائی کو اپنی کمائی سمجھتا ہے تو گویا وہ اپنی قابلیت پر بھروسہ کر رہا ہے۔
آدمی جب کسی کے اوپر ظلم کرنے میں جری ہوتا ہے تو اُس وقت اس کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میں اس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں۔
گھمنڈ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا شرک ہے کیونکہ یہ اپنے آپ کو اللہ کے مقام پر رکھنا ہے۔
بصیرت کا پہلو
آدمی اگر اپنے حال پر سوچے تو وہ گھمنڈ نہ کرے۔
وہ ایسی ہواؤں سے گھرا ہوا ہے جو کسی بھی وقت طوفان کی صورت اختیار کر کے اس کی زندگی کو تہس نہس کر سکتی ہیں۔
وہ ایسی زمین پر کھڑا ہوا ہے جو کسی بھی لمحے زلزلہ کی صورت میں پھٹ سکتی ہے۔
وہ جس سماج میں رہتا ہے، اس میں ہر وقت اتنی عداوتیں موجود رہتی ہیں کہ ایک چنگاری پورے سماج کو خاک و خون کے حوالے کرنے کے لیے کافی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں