🥁 محاورہ: "اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ"


 

🥁 محاورہ: "اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ"

🗣️ تلفظ (Apnī apnī ḍaflī, apnā apnā rāg) 🎙️

📖 معانی و مفہوم اس محاورے کا مطلب ہے کہ:

  • جب کسی گروہ یا جماعت میں اتحاد و اتفاق بالکل ختم ہو جائے۔ ❌🤝

  • ہر شخص دوسرے کی بات سننے کے بجائے اپنی ہی منوانے کی کوشش کرے۔

  • مقصد ایک ہو مگر اسے حاصل کرنے کے طریقے اور آراء اتنی مختلف ہوں کہ عمل مفقود (غائب) ہو جائے۔

🔹 سادہ الفاظ میں: سب کا اپنی اپنی مرضی کرنا اور کسی ایک بات پر متفق نہ ہونا۔ 🥁🎶

📍 موقع و محل یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کسی میٹنگ یا مشورے میں ہر رکن الگ راگ الاپ رہا ہو اور کوئی فیصلہ نہ ہو پا رہا ہو۔

  • کسی خاندان یا ادارے میں بدنظمی پھیلی ہو اور کوئی کسی کا حکم ماننے کو تیار نہ ہو۔

  • جب یہ بتانا مقصود ہو کہ یہاں کوئی نظم و ضبط (Discipline) نہیں ہے۔

مثال: "اس سیاسی اتحاد سے کسی خیر کی توقع نہ رکھو، وہاں تو ہر لیڈر کی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے۔" 🗣️📢

📜 تاریخ و پس منظر "ڈفلی" ایک چھوٹا سا موسیقی کا آلہ ہے جسے ہاتھ سے بجایا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں گلیوں میں کرتب دکھانے والے یا گانے والے جب اکٹھے ہوتے تھے، تو سریلی موسیقی کے لیے ضروری تھا کہ سب ایک ہی تال پر بجائیں (یعنی ہم آہنگ ہوں)۔ لیکن اگر ہر بجانے والا الگ تال چھیڑ دے اور اپنی ہی مرضی کی دھن (راگ) بجائے، تو موسیقی کے بجائے صرف شور پیدا ہوتا ہے۔ وہیں سے یہ محاورہ ایسے لوگوں کے لیے مشہور ہوا جو مل کر کام کرنے کے بجائے انفرادیت پسندی کا شکار ہوں۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک مرتبہ چار دوستوں نے مل کر کھیر پکانے کا فیصلہ کیا۔ طے پایا کہ سب گھر سے کچھ نہ کچھ لائیں گے۔ پہلا دوست لکڑیاں لایا اور جلدی سے آگ جلا کر بولا: "بس کھیر ایسی ہونی چاہیے جو فوراً گل جائے۔" دوسرا بولا: "نہیں! میں چینی لایا ہوں، میں تو اسے بہت زیادہ میٹھا کروں گا۔" 🍬 تیسرا چاول لایا اور کہنے لگا: "چاول کھڑے کھڑے رہنے چاہئیں، ورنہ مزہ نہیں آئے گا۔" 🍚 چوتھا دودھ لایا اور اسے گاڑھا کرنے پر بضد رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کھیر بننے کے بجائے برتن میں ایک عجیب سا ملغوبہ بن گیا جو نہ کھانے کے قابل تھا نہ دیکھنے کے۔ کسی سیانے نے دیکھا تو مسکرا کر کہا: "بھئی! جہاں اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہو، وہاں کھیر نہیں، صرف تماشہ بنتا ہے!" 😂🥣

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں