دین میں غلو اور انسانی عجز کا شعور


 

دین میں غلو اور انسانی عجز کا شعور

"آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے"

سبق نمبر 26

آیتِ مبارکہ

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ (سورۃ النساء: آیت 171)


ترجمہ

"اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں غلو نہ کرو، اور اللہ کے بارے میں کوئی بات حق کے سوا نہ کہو۔"


تشریح و حقیقت

آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میں مبالغہ آمیز تصور قائم کر لیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اس کا نام غلو ہے۔

<u>شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی پیداوار ہیں۔</u>

دین میں غلو کی مختلف صورتیں:

  • درجات میں مبالغہ: دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو، اُس کو واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اُس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے۔

  • شخصیت پرستی: اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ اللہ کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق الفطرت شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔

  • ترکِ دنیا: دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترکِ دنیا تک پہنچا دیا جائے۔

  • فلسفہ سازی: زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام دیے جائیں تو اس میں مبالغہ کر کے اس کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔


قادرِ مطلق اور عاجزِ مطلق

ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ انسان اپنے شعور کے کمال درجے پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ:

  1. اللہ قادرِ مطلق ہے۔

  2. انسان اس کے مقابلے میں عاجزِ مطلق ہے۔

پیغمبر اور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں، اس لیے وہ اللہ کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔ یہ اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے۔


نتیجہ

  • کامیاب انسان: جس کو اپنے عجز کا شعور ہو جائے، اس نے اللہ کے مقابلے میں اپنی نسبت کو پالیا۔ یہ شخص آنکھ والا ہے، جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔

  • ناکام انسان: جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو، وہ اللہ کے مقابلے میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ ایسا شخص اندھا ہے، جس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے، یہاں تک کہ ذلت کے گڑھے میں جا گرے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں