حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔


 

صبر: داعیِ حق کی بنیاد

"حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔"

سبق نمبر 25

آیتِ مبارکہ

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّن نَّهَارٍ ۚ بَلَاغٌ ۚ فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (سورۃ الأحقاف: آیت ۳۵)


ترجمہ

پس تم صبر کرو جس طرح ہمت والے پیغمبروں نے صبر کیا، اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔ جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے، تو گویا کہ وہ دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ یہ پہنچا دینا ہے۔ پس وہی لوگ برباد ہوں گے جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔


تشریح و بصیرت

حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ صبر کی زمین پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔

صبر کی حقیقت: صبر دراصل اس کا نام ہے کہ مدعو کی ایذا رسانیوں کو داعی یک طرفہ طور پر نظر انداز کرے۔

  • وہ مدعو کی ضد اور انکار کے باوجود مسلسل اس کو دعوت پہنچاتا رہے۔

  • داعی اپنے مدعو کا ہر حال میں خیر خواہ بنا رہے، خواہ مدعو کی طرف سے اس کو کتنی ہی زیادہ ناخوشگواریوں کا تجربہ کیوں نہ ہو رہا ہو۔

<u>یہ یک طرفہ صبر اس لیے ضروری ہے کہ اس کے بغیر مدعو کے اوپر اللہ کی حجت تمام نہیں ہوتی۔</u>


پیغمبرانہ نمونہ اور داعی کا مقام

اللہ کے تمام پیغمبروں نے ہر زمانے میں اسی طرح صبر و استقامت کے ساتھ دعوتِ حق کا کام کیا ہے۔ آئندہ بھی پیغمبروں کی نیابت میں جو لوگ دعوتِ حق کا کام کریں، اُن کو اسی نمونے پر دعوت کا کام کرنا ہوگا۔

اللہ کے یہاں داعی کا مقام صرف انہیں لوگوں کے لیے مقدر ہے جو یک طرفہ برداشت کا حوصلہ دکھا سکیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں