👀 محاورہ: "آنکھیں پھیر لینا"


 

👀 محاورہ: "آنکھیں پھیر لینا"

👁️ تلفظ (Āṅkhēṅ phēr lēnā) 🗣️🎙️

📖 معانی و مفہوم اس محاورے کا استعمال تب کیا جاتا ہے جب کوئی شخص:

  • اپنی پہلی جیسی محبت یا مروت ختم کر دے۔ 💔

  • ضرورت کے وقت پہچاننے سے انکار کر دے یا بے رخی اختیار کرے۔

  • کسی سے سخت ناراض ہو کر اس کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔

🔹 سادہ الفاظ میں: مطلب نکل جانے کے بعد بدل جانا یا بے مروت ہو جانا۔ 👋

📍 موقع و محل یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی دوست یا رشتہ دار برے وقت میں کام آنے کے بجائے اجنبی بن جائے۔

  • کوئی شخص اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد پہچاننے سے بھی کترائے۔

  • کسی کی بے وفائی یا بدلی ہوئی طبیعت کا ذکر کرنا مقصود ہو۔

مثال: "کل تک جو میرے گن گاتا تھا، آج مشکل وقت پڑا تو اس نے ایسے آنکھیں پھیر لیں جیسے کبھی جانتا ہی نہ تھا۔" 😟

📜 تاریخ و واقعہ انسانی نفسیات میں 'آنکھیں' دل کا آئینہ کہلاتی ہیں۔ جب انسان کسی سے محبت کرتا ہے تو اس کی نظریں اس کا پیچھا کرتی ہیں، لیکن جب دل میں کھوٹ آ جائے یا بے رخی پیدا ہو جائے تو انسان نظر ملانے سے کتراتا ہے یا اپنا رخ موڑ لیتا ہے۔ قدیم اردو شاعری اور ادب میں اس محاورے کا استعمال کثرت سے ملتا ہے، جہاں محبوب کی بے وفائی کو 'آنکھیں پھیر لینے' سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک صاحب بہت مالدار تھے، ان کے گرد دوستوں کا میلہ لگا رہتا تھا۔ اچانک کاروبار میں نقصان ہوا تو وہ غریب ہو گئے۔ ایک دن وہ اپنے سب سے پرانے "جگری یار" کے سامنے سے گزرے، لیکن اس نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ صاحبِ خانہ نے آواز دی: "بھئی! میں تمہارا پرانا دوست ہوں، پہچانا نہیں؟" دوست جلدی سے بولا: "بھائی! میں نے آپ کو پہچان تو لیا ہے، لیکن میری آنکھوں میں تھوڑا مسئلہ ہے، اس لیے میں نے آنکھیں پھیر لیں تاکہ آپ کو میری بیماری نہ لگ جائے!" غریب ہونے والے صاحب ہنس کر بولے: "میاں! یہ بیماری آنکھوں کی نہیں، جیب خالی ہونے کی ہے، جو تمہیں نظر آ گئی!" 😂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں