💧 وضو کے دوران حلق میں پانی چلے جانے کا شرعی حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 16
سوال
اگر روزے کی حالت میں وضو کرتے ہوئے کلی کے بعد تھوک کے ساتھ پانی کے کچھ قطرے غلطی سے حلق میں چلے جائیں، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
شرعی جواب
روزے کی حالت میں وضو کرتے ہوئے احتیاط لازم ہے، تاہم اگر درج ذیل صورت پیش آ جائے:
حکم: اگر روزے دار کو اپنا روزہ یاد تھا اور اس کے باوجود وضو کے دوران غلطی سے پانی کے قطرے حلق سے نیچے اتر گئے، تو اس کا روزہ فاسد (ٹوٹ) جائے گا۔
لازم حکم: ایسی صورت میں اس روزے کی صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
📚 حوالہ و فتویٰ
ماخذ: دار الافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144509100861
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
رمضان کے مسائل اور جدید فقہی ابحاث کے تفصیلی مطالعہ کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا وضو میں غلطی سے پانی حلق میں جانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ جانئے جامعہ بنوری ٹاؤن کا مستند فتویٰ اور روزے کی قضا کا حکم۔
Keywords: وضو اور روزہ، حلق میں پانی جانا، روزہ ٹوٹنے کے مسائل، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، فقہ حنفی، Water in throat during fasting.
Hashtags:
#Ramadan2026 #مسائل_رمضان #روزہ #وضو #فقہی_مسائل #جامعہ_بنوری_ٹاؤن #مفتی_عرفان_اللہ #اصلاح_اعمال

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں