منافق آدمی صرف انسانوں کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی اللہ کو سنانے کا


 

سبق نمبر ۱۱: منافق آدمی صرف انسانوں کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی اللہ کو سنانے کا

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم والا ہے۔

قرآنی آیات (سورۃ المنافقون: ۱-۳)

إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ ۝ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۝ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ ۝

اردو ترجمہ

جب منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ بے شک اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ بے شک تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔

انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے، پھر وہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، بے شک نہایت برا ہے جو وہ کر رہے ہیں۔

یہ اس سبب سے ہے کہ وہ ایمان لائے، پھر انہوں نے کفر کیا، پھر ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی، پس وہ نہیں سمجھتے۔


تشریح

یہ کسی آدمی کے نفاق کی علامت ہے کہ وہ بڑی بڑی باتیں کرے اور قسم کھا کر اپنی بات کا یقین دلائے۔

  • مخلص آدمی اللہ کے خوف سے دیا ہوا ہوتا ہے، وہ زبان سے زیادہ دل سے بولتا ہے
  • منافق آدمی صرف انسان کو اپنی آواز سنانے کا مشتاق ہوتا ہے، اور مخلص آدمی اللہ کو سنانے کا

جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو وہ ایک سنجیدہ عہد کرتا ہے۔ اس کے بعد زندگی کے عملی مواقع آتے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس عہد کے مطابق عمل کرے۔

دو طرح کے لوگ

  1. مخلص شخص
    • ایسے مواقع پر اپنے دل کی آواز کو سن کر عہد کے تقاضے پورے کرتا ہے
    • اس نے اپنے عہدِ ایمان کو پختہ کیا
  2. منافق شخص
    • دل نے آواز دی، مگر اس نے دل کی آواز کو نظر انداز کر کے عہد کے خلاف عمل کیا
    • اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دھیرے دھیرے اپنے عہدِ ایمان کے معاملے میں بے حس ہو جائے گا

یہی مطلب ہے دل پر مہر کرنے کا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں