🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴35🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴35🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

معراج (دوسری قسط) — جنت و دوزخ کے مناظر اور پانچ نمازوں کا عطیہ


🔥 دوزخ کا ہولناک منظر

دوزخ کا حال یہ دکھایا گیا کہ آپ ایک وادی میں پہنچے — وہاں آپ نے ایک بہت بدنما آواز سنی۔ آپ نے بدبو بھی محسوس کی۔ آپ نے پوچھا:

’’جبرئیل! یہ کیا ہے؟‘‘

انہوں نے بتایا:

’’یہ جہنم کی آواز ہے — یہ کہہ رہی ہے: ’اے میرے پروردگار! مجھے وہ غذا دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ میری زنجیریں اور بیڑیاں، میری آگ، میرے شعلے، گرمی، گرم ہوا، پیپ اور عذاب کے دوسرے ہیبت ناک سامان بہت بڑھ گئے ہیں۔ میری گہرائی اور اس گہرائی میں آگ کی تپش — یعنی میرا پیٹ اور اس کی بھوک — بہت زیادہ ہے، اس لیے مجھے میری وہ خوراک دے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔‘‘‘

جہنم کی اس پکار کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ہر کافر اور مشرک، بدطینت، بدمعاش اور خبیث مرد اور عورت تیری خوراک ہیں۔‘‘

یہ سن کر جہنم نے جواب دیا:

’’بس! میں خوش ہو گئی۔‘‘


👹 گناہگاروں کے مختلف عذاب

اسی سفر میں آپ کو دجال کی صورت دکھائی گئی — اس کی شکل عبدالعزیٰ ابن قطن جیسی تھی۔ یہ عبدالعزیٰ جاہلیت کے زمانے میں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے ہی مر گیا تھا۔

1. یتیموں کا مال کھانے والے

آپ کو وہاں کچھ لوگ دکھائے گئے — ان کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں جیسے تھے اور ان کے ہاتھوں میں پتھروں کی طرح کے بڑے بڑے انگارے تھے — یعنی اتنے بڑے بڑے تھے کہ ایک ایک انگارے میں ان کا ہاتھ بھر گیا تھا۔ وہ لوگ انگاروں کو اپنے منہ میں ڈالتے تھے۔

آپ نے یہ منظر دیکھ کر جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا:
’’جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟‘‘
جواب میں انہوں نے بتایا:

’’یہ وہ لوگ ہیں جو زبردستی اور ظلم سے یتیموں کا مال کھاتے تھے۔‘‘

2. زناکار مرد و عورت

اس کے بعد آپ نے کچھ لوگ دیکھے — جن کے سامنے ایک طرف بہترین قسم کا گوشت رکھا تھا، دوسری طرف سڑا ہوا بدبودار گوشت تھا۔ وہ اچھا گوشت چھوڑ کر بدبودار گوشت کھا رہے تھے۔

آپ نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا: ’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘
انہوں نے بتایا:

’’یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے پاک دامن عورتیں — یعنی بیویاں — دے دی تھیں، مگر یہ انہیں چھوڑ کر دوسری عورتوں کے پاس جاتے تھے۔ یا وہ ایسی عورتیں ہیں جو اپنے خاوند کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کے پاس جاتی تھیں۔‘‘

3. غیبت کرنے والے

آپ نے وہاں ایسے لوگ دیکھے جو اپنے ہی جسم سے پہلوؤں کا گوشت نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔ ان سے کہا جا رہا تھا:

’’یہ بھی اسی طرح کھاؤ جس طرح تم اپنے بھائی کا گوشت کھایا کرتے تھے۔‘‘

آپ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون لوگ ہیں؟‘‘
جبرئیل علیہ السلام نے کہا:

’’یہ وہ لوگ ہیں جو ایک دوسرے پر آوازے کسا کرتے تھے۔‘‘


🏞️ جنت کے حُسن و جمال کا نظارہ

جہنم دکھانے کے بعد آپ کو جنت دکھائی گئی۔

آپ نے وہاں موتیوں کے بنے ہوئے گنبد دیکھے — وہاں کی مٹی مشک کی تھی۔ آپ نے جنت میں انار دیکھے — وہ بڑے بڑے ڈولوں جتنے تھے۔ اور جنت کے پرندے اونٹوں جتنے بڑے تھے۔

ساتوں آسمانوں کی سیر کے بعد آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا — یہ بیری کا ایک درخت ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ میں ایک چشمہ دیکھا — اس سے دو نہریں پھوٹ رہی تھیں:

  1. کوثر

  2. رحمت

آپ فرماتے ہیں: ’’میں نے اس چشمے میں غسل کیا۔‘‘

ایک روایت کے مطابق سدرۃ المنتہیٰ کی جڑ سے جنت کی چار نہریں نکل رہی ہیں — ان میں سے:

  • ایک نہر پانی کی

  • دوسری دودھ کی

  • تیسری شہد کی

  • چوتھی نہر شراب کی ہے۔


👼 جبرئیل علیہ السلام کی اصل صورت

اسی وقت سدرۃ المنتہیٰ کے پاس آپ نے جبرئیل علیہ السلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا — یعنی جس شکل میں اللہ تعالیٰ نے بنایا تھا۔

ان کے چھ سو پر ہیں — اور ہر پر اتنا بڑا ہے کہ اس سے آسمان کا کنارہ چھپ جائے۔ ان پروں سے رنگا رنگ موتی اور یاقوت اتنی تعداد میں گر رہے تھے کہ ان کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے۔

پھر ایک بدلی نے آپ کو آ کر گھیر لیا — آپ کو اسی بدلی کے ذریعے اوپر اٹھا لیا گیا۔ جبرئیل وہی رہ گئے۔ (بدلی کی جگہ بعض روایات میں ایک سیڑھی کے ذریعے اٹھانے کا ذکر بھی آیا ہے۔)

یہاں آپ نے صریر اقلام — یعنی لوح محفوظ پر لکھنے والے قلموں کی سرسراہٹ — کی آوازیں سنیں۔ یہ تقدیر کے قلم تھے اور فرشتے ان سے مخلوق کی تقدیریں لکھ رہے تھے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ جبرئیل علیہ السلام سدرۃ المنتہیٰ سے آگے نہیں گئے — اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سدرۃ المنتہیٰ ساتویں آسمان سے اوپر ہے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ عرش اعظم کے دائیں طرف ہے۔


🌊 نہر کوثر کا نظارہ

ایک روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ کو لے کر ساتویں آسمان کے اوپر گئے — وہاں ایک نہر پر پہنچے۔ اس میں یاقوتوں، موتیوں اور زبرجد کے خیمے لگے تھے۔ اس نہر میں ایک سبز رنگ کا پرندہ تھا — وہ اس قدر حسین تھا کہ اس جیسا پرندہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔

جبرائیل علیہ السلام نے بتایا:

’’یہ نہر کوثر ہے — جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے۔‘‘

آپ فرماتے ہیں: ’’میں نے دیکھا — اس میں یاقوت اور زمرد کے تھالوں میں رکھے ہوئے سونے اور چاندی کے جام تیر رہے تھے۔ اس نہر کا پانی دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ میں نے ایک جام اٹھایا — اس نہر سے بھر کر پیا تو وہ شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار تھا۔‘‘


🕌 حجاب اکبر اور اللہ کا دیدار

آپ فرماتے ہیں: ’’جبرائیل علیہ السلام مجھے لیے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے — اس کے پاس حجاب اکبر ہے۔ حجاب اکبر کے پاس پہنچ کر انہوں نے کہا:

’’میری پہنچ کا مقام یہاں ختم ہو گیا — اب آپ آگے تشریف لے جائیں۔‘‘

آپ فرماتے ہیں: ’’میں آگے بڑھا — یہاں تک کہ میں سونے کے ایک تخت تک پہنچ گیا۔ اس پر جنت کا ریشمی قالین بچھا تھا۔ اسی وقت میں نے جبرائیل علیہ السلام کی آواز سنی — وہ کہہ رہے تھے:

’’اے محمد! اللہ تعالیٰ آپ کی تعریف فرما رہا ہے۔ آپ سنیے اور اطاعت کیجیے۔ آپ کلام الہٰی سے دہشت زدہ نہ ہوں۔‘‘

چنانچہ اس وقت میں نے حق تعالیٰ کی تعریف بیان کی — اس کے بعد مجھے اللہ کا دیدار ہوا۔ میں فوراً سجدے میں گر گیا۔

پھر اللہ نے مجھ پر وحی اتاری — وہ یہ تھی:

’’اے محمد! جب تک آپ جنت میں داخل نہیں ہو جائیں گے، اس وقت تک تمام نبیوں کے لیے جنت حرام رہے گی۔ اسی طرح — جب تک آپ کی امت جنت میں داخل نہیں ہوگی، تمام امتوں کے لیے جنت حرام رہے گی۔‘‘

اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اے محمد! ہم نے کوثر آپ کو عطا فرما دی ہے۔ اس طرح آپ کو یہ خصوصیت حاصل ہو گئی ہے کہ تمام جنتی آپ کے مہمان ہوں گے۔‘‘


🕌 پانچ نمازوں کا عظیم تحفہ

اس کے بعد پچاس نمازیں فرض ہوئیں — پچاس نمازیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے کم کرائی گئیں — یہاں تک کہ ان کی تعداد پانچ کر دی گئی۔

تاہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’اے محمد! ہر روز یہ پانچ نمازیں ہیں — ان میں سے ہر ایک کا ثواب دس کے برابر ہوگا۔ اور اس طرح ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ملے گا۔ آپ کی امت میں سے جو شخص بھی نیکی کا ارادہ کرے اور پھر نہ کر سکے، تو میں اس کے حق میں صرف ارادہ کرنے پر ایک نیکی لکھوں گا۔ اور اگر اس نے وہ نیک عمل کر بھی لیا، تو اسے دس نیکیوں کے برابر لکھوں گا۔ اور جو شخص کسی بدی کا ارادہ کرے اور پھر اس کو نہ کرے، تو بھی اس کے لیے ایک نیکی لکھ دوں گا۔ اور اگر اس نے وہ بدی کر لی، تو اس کے نتیجے میں ایک بدی لکھوں گا۔‘‘


💰 صدقہ اور قرض کا اجر

آپ فرماتے ہیں: ’’میں نے جنت کے دروازے پر لکھا دیکھا:

’’صدقے کا صلہ دس گنا ہے — اور قرض کا صلہ اٹھارہ گنا ہے۔‘‘

میں نے جبرائیل سے پوچھا:
’’یہ کیا بات ہے کہ قرض دینا صدقے سے افضل ہے؟‘‘

جواب میں انہوں نے کہا:

’’اس کی وجہ یہ ہے کہ سائل — جسے صدقہ دیا جاتا ہے — وہ مانگتا ہے تو اسی وقت اس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے۔ جب کہ قرض مانگنے والا اسی وقت قرض مانگتا ہے جب اس کے پاس کچھ نہ ہو۔‘‘


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں