ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے


 

سبق نمبر ۹: ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے

قرآنی آیت (سورۃ الحجرات: آیت ۱۱)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۝

اردو ترجمہ

اے ایمان والو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اُڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو، اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو۔ ایمان لانے کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے۔ اور جو باز نہ آئیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔


تشریح

ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ:

  • اس طرح اپنے کو بڑا
  • اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے

وہ:

  • دوسرے کا مذاق اُڑاتا ہے
  • دوسرے پر عیب لگاتا ہے
  • دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے

تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔

اچھے اور برے کا اصل معیار

مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔

  • اچھا دراصل وہ ہے جو اللہ کی نظر میں اچھا ہو
  • برا وہ ہے جو اللہ کی نظر میں برا ٹھہرے

اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہو جائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ پچھڑ جائے گا۔

اس کے بعد:

  • دوسرے کا مذاق اُڑانا
  • دوسرے کو طعنہ دینا
  • دوسرے پر عیب لگانا
  • دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا

سب اسے بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔

کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجے و مرتبے کا اصل فیصلہ اللہ کے یہاں ہونے والا ہے۔

پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔

یہ سبق دل میں اتر جاتا ہے۔ کتنی خوبصورت نصیحت ہے کہ دوسروں کو چھوٹا سمجھنے کی بجائے اللہ کی نظر کو معیار بنائیں! 🤲

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں