Top Ad unit 728 × 90

✨📰 خاص مضامین 📰🏅

random

خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع سبق نمبر 01


 وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ (القمر)


خلاصۂ قرآن  رکوع بہ رکوع


پیش لفظ

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا وہ بے مثال، لاثانی اور معجز کلام ہے جس کے فہم و تفسیر میں صدیوں کے اکابر علما نے اپنی عمریں کھپا دیں، مگر اس کے اسرار کی انتہا نہ پا سکے۔

امام غزالیؒ نے اس پر پانچ سو جلدوں میں تفسیر لکھی،

امام رازیؒ نے بتیس جلدوں میں اس کے حقائق بیان کیے،

آلوسیؒ نے اٹھارہ جلدوں میں اس کے رموز کھولے،

اور ابنِ کثیرؒ نے چار جلدوں میں اس کے مضامین جمع کیے —

مگر سب آخر میں یہی کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہم ابھی آغاز ہی میں ہیں، اس کی گہرائیوں تک رسائی ممکن نہیں۔


اگر تمام سمندر روشنائی بن جائیں اور درخت قلم، تب بھی قرآن کا حق ادا نہ ہو۔

جو اپنی زندگی قرآن کے لیے وقف کر دے، اللہ اس کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیتا ہے۔


قرآن صرف کتاب نہیں، یہ زندگی کا نور، دلوں کا سکون اور روح کی غذا ہے۔

اللہ ہمیں قرآن کی محبت، خدمت اور سمجھ نصیب فرمائے آمین۔ 

✍️ مولانا محمد ظفر اقبال


سبق نمبر 01


بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ


سورۂ فاتحہ کے مضامین کا خلاصہ


عقائدِ اسلام و صراطِ مستقیم

سورۂ فاتحہ کے مضامین کا خلاصہ دراصل پورے قرآنِ کریم کے مضامین کا خلاصہ اور اجمالی نقشہ ہے، کیونکہ عقائدِ اسلامی کے اصل الاصول اور بنیادی نظریات تین ہیں جو سورۂ فاتحہ میں بھی مذکور ہیں اور پورے قرآن میں بھی بکھرے ہوئے ہیں:


1. توحید: یعنی اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، کمالات اور اختیارات میں واحد و یکتا اور لاشریک ماننا۔

2. رسالت: یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضورِ اکرم ﷺ تک تمام انبیاے کرام کا مرسل من اللہ اور برحق ہونا تسلیم کرنا۔

3. قیامت: یعنی ایک وقتِ مقررہ پر اس دنیا کے زوال کا قائل ہونا۔

چنانچہ قبلِ ہجرت آپ ﷺ کی تیرہ سالہ مکی زندگی میں جتنا حصہ قرآنِ کریم کا نازل ہوا، اس میں اکثر انہی مضامین کو بیان کیا گیا ہے۔ ان کے متعلق کفار و مشرکین کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا گیا، ان عقائد کو تسلیم کرنے والوں کے لیے جزائے عظیم اور اجرِ جزیل کا ذکر کیا گیا، اور نہ ماننے والوں کو دردناک اور رسوا کن عذاب کی سخت دھمکیاں دی گئیں۔


پھر ان عقائد کو ذہن نشین کروانے کے بعد قرآنِ حکیم کی تعلیمات کا دوسرا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر کلمہ گو مسلم، خداوندِ کریم کی مقبول بارگاہ ہستیوں کے صراطِ مستقیم پر ہمیشہ گامزن رہے، اور بارگاہِ خداوندی سے دھتکارے ہوئے لوگوں کے راستے سے بچتا رہے۔ چنانچہ اس دوسرے مضمون کو بھی سورۂ فاتحہ میں بیان کیا گیا ہے۔


سورۂ بقرہ کے مضامین کا خلاصہ


معاشرتی زندگی کیسی ہو؟


سورۂ بقرہ کے رکوع نمبر 1 سے رکوع نمبر 18 تک یہودیوں کے ساتھ مناظرہ ہے۔

رکوع نمبر 19 میں تہذیبِ اخلاق کا ذکر ہے۔

رکوع نمبر 20 سے رکوع نمبر 23 تک تدبیرِ منزل کا بیان ہے۔

رکوع نمبر 24 سے 32 تک سیاستِ مدنیہ کے دو اہم شعبوں: ملک گیری اور ملک داری پر بحث کی گئی ہے۔

پھر رکوع نمبر 33 سے 40 تک خلافتِ کبریٰ کا بیان ہے۔


اس اجمال کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ اگر کسی معیّن شخص (مثلاً زید) کی مصلحتوں کا علم زیرِ بحث ہو تو اسے تہذیبِ اخلاق کہتے ہیں، جس کا بیان رکوع نمبر 19 میں کیا گیا ہے۔


اور اگر ایک جماعت کی مصلحتوں کا علم زیرِ بحث ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں:


1. وہ جماعت ایک مکان میں مشترک ہو، مثلاً کئی افراد ایک ہی مکان میں منزل در منزل رہتے ہوں، تو ان کی مصلحتوں کا علم تدبیرِ منزل کہلاتا ہے، جس کا بیان رکوع نمبر 20 سے 23 تک ہے۔

2. وہ جماعت ایک شہر میں مشترک ہو تو اس کی مصلحتوں کا علم سیاستِ مدنیہ کہلاتا ہے، جس کا بیان رکوع نمبر 24 سے 32 تک ہے۔ اس کے بعد خلافتِ کبریٰ کا بیان ہے۔


رکوع نمبر 1 کا خلاصہ:


اوصافِ متقین اور انجامِ کفار

قرآنِ کریم کے سراپا ہدایت اور لاریب ہونے کا ذکر کر کے متقین کی چھ صفات بیان کی گئیں۔ جو بھی ان صفات سے متصف ہوگا، اس کے لیے کامیابی اور کامرانی کی خوشخبری ہے — جو قلوبِ عاشقین کے لیے منزلِ مقصود اور گوہرِ مطلوب ہے۔ ان صفات کو ذکر کرنے کا اصل مقصد اس زمانے میں موجود اہلِ علم طبقے کو ترغیب دینا ہے تاکہ وہ بھی ایمان سے مشرف ہو کر دخولِ جنت کا مستحق بن جائیں، ورنہ ایمان کے بغیر کوئی نیک عمل مقبول و کارآمد نہیں۔


رکوع نمبر 2 کا خلاصہ:


منافقین کے امراض اور ان کی اقسام

جو لوگ اپنے اعمال میں مسلمانوں سے ملتے ہیں کہ انہیں مسلمان کہا جا سکے، اور نہ ہی کافروں سے کہ انہیں کافر کہا جا سکے — ایسے لوگوں کو اصطلاحِ شرع میں منافقین کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ کافروں سے بھی بدتر ہیں، اس لیے ان کی سزا بھی عام کافروں سے زیادہ سخت رکھی گئی ہے، اور

 "إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ"

کا اعلان کر کے ان کی ہمیشہ کی بدبختی پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی گئی۔

یاد رہے کہ یہ انجامِ بد نفاقِ اعتقادی کا ہے، نفاقِ عملی کا یہ حکم نہیں۔


رکوع نمبر 3 کا خلاصہ:


تذکیر بآلاءِ اللہ سے منافقین کی اصلاح

نفاقِ عملی دو قسم پر ہے:


1. وہ منافقین جن کے دل پر کفر کی موسلا دھار بارش ہو کر ان کے قلب و جگر، اعضا و جوارح اور رگ و ریشہ میں کفر رچ بس گیا ہو۔

2. وہ منافقین جن کے دلوں پر کفر کا زنگ اچھی طرح نہیں لگا — اس مقفل تالے کو اگر کھولنے کی کوشش کی جائے تو ایمان کا تیل ڈال کر اسے کھولا جا سکتا ہے۔

چنانچہ انعاماتِ خداوندی کی برسات کا دھیان پیدا کر کے اپنی طرف متوجہ ہونے، اور پیغمبرِ خدا ﷺ کی بارگاہِ قدسی صفات میں غلام بن کر حاضری دینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ان کے شکوک و شبہات کو کبھی چیلنج کے ذریعے اور کبھی ضرب الامثال کے ذریعے زائل کیا جا رہا ہے۔


//جاری ہے۔۔۔۔۔//

🌸🌹♥️🌼🤲


کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.