مختصر تفسیر ِعتیق : سورۃ الجاثیہ


مکی سورت ہے سینتیس آیتوں اور چار رکوع پر مشتمل ہے۔

 اس سورت کا مرکزی مضمون توحید باری تعالیٰ ہے جبکہ حقانیت قرآن، اثبات رسالت محمدیہ اور قیامت کا بیان بھی موجود ہے۔ ابتداء میں قرآن کے کلام اللہ ہونے کا برملا اظہار ہے اس کے بعد توحید پر کائناتی شواہد پیش کئے گئے ہیں۔ قدرت کے شاہکار آسمان میں دلائل ہیں۔ وسیع و عریض زمین میں، تخلیق انسانی میں، جانوروں اور باقی مخلوقات میں، دن رات کے آنے جانے اور بارشوں اور ہواؤں میں اللہ کی قدرت کے دلائل اور توحید باری کے شواہد موجود ہیں۔ پھر مجرمین کا مزاج بیان کیا کہ وہ دلائل سے استفادہ کرنے کی بجائے ضلالت و گمراہی میں اور ترقی کر جاتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں وہ دردناک عذاب اور جہنم کی گہرائیوں میں دھکیلے جانے کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

 اللہ کی نعمتوں اور ان میں غور و فکر کر کے منعم حقیقی کو پہچاننے کی تلقین کے ساتھ قوم بنی اسرائیل کا تذکرہ کہ ان پر بیشمار انعامات کئے گئے۔ فضیلت و اکرام سے نوازا گیا مگر انہوں نے ان نعمتوں کی قدر کرنے کی بجائے بغاوت و سرکشی کا راستہ اپنا کر اپنے لئے ہلاکت و بربادی کو لازم کر لیا۔ پھر گمراہی کی جڑ کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ  ’’خواہشات نفسانی‘‘ کو معبود کا درجہ دے کر زندگی گزارنا ہی وہ لاعلاج بیماری ہے جو انسان کو گمراہی کیا تھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے اور یہ اندھا اور بہرا ہو کر اس کے پیچھے لگ جاتا ہے۔ دنیا کی زندگی کو اصل سمجھ کر آخرت سے غافل ہو جاتا ہے۔

 قیامت کے دن کی ہولناکی اور دہشت کا بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ اس دن لوگ گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہوں گے اور ان کی دو جماعتیں بن جائیں گی۔ ایمان اور اعمال صالحہ والے اللہ کی رحمت اور واضح کامیابی کے مستحق قرار پائیں گے جبکہ کافر و متکبر اپنی مجرمانہ حرکات کی بناء پر  ’’پرِکاہ‘‘ کی حیثیت بھی نہیں رکھیں گے اور بے یارو مددگار جہنم کا ایندھن بنا دیئے جائیں گے۔ تمام تعریفیں آسمان و زمین اور ساری کائنات کے رب کے لئے ہیں اور آسمان و زمین کی بڑائی بھی اسی زبردست اور حکمتوں والے اللہ کو سزا وار ہے۔ 
٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں