🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴47🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴47🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

قبلہ کی تبدیلی اور ابتدائی غزوات


❓ یہودیوں کے سوالات اور ان کے جوابات

چند یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال پوچھا:

"آپ یہ بتائیں — اس وقت لوگ کہاں ہوں گے جب قیامت کے دن زمین اور آسمان کی شکلیں تبدیل ہو جائیں گی؟"

اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا:

"اس وقت لوگ پل صراط کے قریب اندھیرے میں ہوں گے۔"

اسی طرح ایک مرتبہ یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے بادلوں کی گرج اور کڑک کے بارے میں پوچھا — جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

"یہ اس فرشتے کی آواز ہے جو بادلوں کا نگران ہے — اس کے ہاتھ میں آگ کا ایک کوڑا ہے — اس سے وہ بادلوں کو ہانکتا ہوا اس طرف لے جاتا ہے جہاں پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔"


🎭 منافقین — چھپے ہوئے دشمن

ان یہودیوں ہی میں سے ایک گروہ منافقین کا تھا — یہ بات ذرا وضاحت سے سمجھ لیں۔

مدینہ منورہ میں جب اسلام کو عروج حاصل ہوا تو یہودیوں کا اقتدار ختم ہو گیا — بہت سے یہودی اس خیال سے مسلمان ہو گئے کہ اب ان کی جانیں خطرے میں ہیں — سو اپنی جانیں بچانے کے لیے وہ جھوٹ موٹ کے مسلمان ہو گئے۔

اب اگرچہ کہنے کو وہ مسلمان تھے — لیکن ان کی ہمدردیاں اور محبتیں اب بھی یہودیوں کے ساتھ تھیں — ظاہر میں وہ مسلمان تھے — اندر سے وہی یہودی تھے — ان لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول نے منافق قرار دیا ہے — ان کی تعداد تین سو کے قریب تھی۔

انہی منافقوں میں عبداللہ ابن اُبیّ بھی تھا — یہ منافقوں کا سردار تھا۔

یہ منافقین ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ کب اور کس طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں — مسلمانوں کو پریشان کرنے اور نقصان پہنچانے کا کوئی موقع یہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے — جیسا کہ آئندہ چل کر آپ پڑھیں گے۔


💍 حضرت عائشہؓ کی رخصتی

ہجرت کے پہلے سال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی — یعنی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر آ گئیں — بعض روایات کے مطابق رخصتی ہجرت کے دوسرے سال ہوئی۔


⚔️ جہاد کی اجازت کے مراحل

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جب نبوت عطا کی گئی تھی — تو اس وقت جنگ کے بغیر تبلیغ کا حکم ہوا تھا — اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ کافروں سے الجھیے مت — بلکہ دامن بچائے رکھیے اور صبر کیجیے — یہ حکم مکہ کی زندگی تک رہا۔

پھر ہجرت کے بعد اس طرح جنگ کرنے کی اجازت ملی کہ اگر مشرک جنگ کی ابتدا کریں تو مسلمان ان سے دفاعی جنگ کر سکتے ہیں — البتہ حرام (قابل احترام) مہینوں میں جنگ نہ کریں — یعنی رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم میں۔

کچھ مدت بعد جنگ کی عام اجازت ہو گئی — یعنی کافروں کے حملہ نہ کرنے کی صورت میں بھی مسلمان ان سے اقدامی جنگ کریں — اور کسی بھی مہینے میں جنگ کر سکتے ہیں۔


🛡️ غزوہ بنی ضمرہ — پہلا غزوہ

جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کی اجازت مل گئی — تو 12 ربیع الاول 2 ہجری میں پہلی بار حضور صلی اللہ علیہ و سلم جہاد کی غرض سے مدینہ سے روانہ ہوئے۔

مدینہ سے نکل کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ودان کے مقام پر پہنچے — یہ ایک بڑی بستی تھی اور ابواء کے مقام سے چھ یا آٹھ میل کے فاصلے پر تھی — ابواء مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک گاؤں تھا۔

اس غزوہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ صرف مہاجرین تھے — حضور صلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ بنی ضمرہ پر حملہ کرنے کے لیے تشریف لے گئے تھے — آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ 70 صحابہ تھے۔

بنی ضمرہ کے سردار نے جنگ کے بغیر صلح کر لی — صلح کا معاہدہ لکھا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم واپس تشریف لے آئے۔

اس طرح یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا پہلا غزوہ تھا — اس کو غزوہ بنی ضمرہ کہا جاتا ہے — اس غزوہ میں مسلمانوں کا جھنڈا سفید تھا اور یہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔

صلح کے معاہدے میں طے پایا تھا کہ:

  • یہ لوگ مسلمانوں کے مقابلے پر نہیں آئیں گے

  • اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم انہیں جب بھی بلائیں گے — انہیں مدد کے لیے آنا ہوگا

اس غزوہ میں مسلمانوں کو پندرہ دن لگے۔


🏜️ غزوہ بواط

اس کے بعد غزوہ بواط ہوا — اس میں اسلامی لشکر میں دو سو مہاجرین تھے — جھنڈا سفید رنگ کا تھا — یہ ربیع الثانی 2 ہجری میں پیش آیا۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لیے روانہ ہوئے تھے — اس قافلے کا سردار قریش کا سردار امیہ بن خلف تھا — اس کے ساتھ قریش کے سو آدمی تھے — قافلے میں دوہزار پانچ سو اونٹ تھے — ان پر تجارتی سامان لدا ہوا تھا۔

جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس غزوہ کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے — تو اپنا قائم مقام حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بنایا۔

مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم بواط کے مقام پر پہنچے — یہ ایک پہاڑ کا نام ہے — اسی مناسبت سے اس غزوہ کا نام غزوہ بواط پڑا۔

لیکن بواط پہنچنے پر دشمنوں سے سامنا نہ ہو سکا — کیونکہ قریشی قافلہ مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں سے رخصت ہو چکا تھا — اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم جنگ کے بغیر ہی تشریف لے آئے۔


🐫 غزوہ عشیرہ اور ابوتراب کا لقب

جمادی الاولی کے مہینے میں غزوہ عشیرہ پیش آیا — اس مرتبہ بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ایک قریشی قافلے کو روکنے کے لیے تشریف لے گئے — وہ قافلہ ملک شام کی طرف جا رہا تھا۔

قریش نے اس قافلے میں اپنا بہت سا مال و اسباب شامل کر رکھا تھا — غرض مکہ کے سبھی لوگوں نے اس میں مال شامل کیا تھا — اس قافلے کے ساتھ پچاس ہزار دینار تھے — ایک ہزار اونٹ تھے — قافلے کے سردار ابوسفیان رضی اللہ عنہ تھے (جو کہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے) — ستائیس آدمی بھی ہمراہ تھے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں ابوسلمہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنایا — آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ڈیڑھ سو کے قریب صحابہ کرام تھے۔

مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم عشیرہ کے مقام تک پہنچے — اس غزوہ میں بھی اسلامی جھنڈے کا رنگ سفید تھا — جھنڈا حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔

اسلامی لشکر بیس اونٹوں پر سوار ہوا — سب لوگ باری باری سوار ہوتے رہے۔

عشیرہ کے مقام پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوا کہ قافلہ وہاں سے گزر کر شام کی طرف جا چکا ہے — چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پھر جنگ کے بغیر واپس تشریف لے آئے — تاہم اس دوران بنی مدلج سے امن اور سلامتی کا معاہدہ طے پایا۔


🌱 ابوتراب کا لقب

اسی سفر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب کا لقب ملا — یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقع پر حضرت علی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو زمین پر اس طرح سوتے پایا کہ ان کے اوپر مٹی لگ گئی — آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پاؤں سے ہلایا اور فرمایا:

"اے ابوتراب (یعنی اے مٹی والے) اٹھو۔"


🏇 غزوہ بدر اولی (سفوان)

آپ صلی اللہ علیہ و سلم غزوہ عشیرہ سے واپس آئے تو چند دن بعد ہی پھر ایک مہم پیش آ گئی — ایک شخص کرز بن جابر فہری نے مدینہ منورہ کی چراگاہ پر حملہ کر دیا — حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اس کی تلاش میں نکلے — یہاں تک کہ سفوان کی وادی میں پہنچے — یہ وادی میدان بدر کے قریب ہے — اسی مناسبت سے اس غزوہ کو غزوہ بدر اولی بھی کہا جاتا ہے۔

کرز بن جابر مسلمانوں کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی جا چکا تھا — اس غزوہ کے لیے نکلنے سے پہلے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے مدینہ منورہ میں اپنا قائم مقام حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بنایا — اس مرتبہ بھی جھنڈا سفید تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا گیا تھا۔


🕋 قبلہ کی تبدیلی — مسجد قبلتین

اسی سال 2 ہجری کے دوران قبلے کا رخ تبدیل ہوا — اور اس وقت تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے تھے۔

قبلہ کی تبدیلی کا حکم ظہر کی نماز کے وقت آیا — ایک روایت میں یہ ہے کہ عصر کی نماز میں حکم آیا تھا۔

قبلہ کی تبدیلی اس لیے ہوئی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ آرزو کی تھی کہ قبلہ بیت اللہ ہو — خاص طور پر یہ آرزو اس لیے تھی کہ یہودی کہتے تھے:

"محمد ہماری مخالفت بھی کرتے ہیں اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز بھی پڑھتے ہیں — اگر ہم سیدھے راستے پر نہ ہوتے تو تم ہمارے قبلے کی طرف رخ کر کے نمازیں نہ پڑھا کرتے۔"

ان کی بات پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا کی کہ ہمارا قبلہ بیت اللہ ہو جائے — اور اللہ تعالیٰ نے یہ دعا منظور فرمائی۔

قبلہ کی تبدیلی کا حکم نماز کی حالت میں آیا — چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کے دوران ہی اپنا رخ بیت اللہ کی طرف کر لیا — اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی رخ تبدیل کر لیا۔

یہ نماز مسجد قبلتین میں ہو رہی تھی۔


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں