کردار و عمل کا تضاد اور مفادات کی اسیری


 

کردار و عمل کا تضاد اور مفادات کی اسیری

"وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ مذہب کے نام پر طرح طرح کے نذرانے سال بھر ان کو ملتے رہتے تھے۔"

سبق نمبر 40

آیتِ مبارکہ

أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ البقرہ: آیت ۴۴)


ترجمہ

"کیا تم لوگوں سے نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں؟"


تشریح و بصیرت

کسی گروہ پر اللہ کا سب سے بڑا انعام اس کے پاس پیغمبر کی بعثت ہے، تاکہ ابدی فلاح کا راستہ کھل سکے۔ بنی اسرائیل کو یہ نعمت ملی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان کا دین ایک شعوری فیصلے کے بجائے تقلیدی رسم بن گیا۔

  • نبوتِ محمدی ﷺ اور یہود: جب نبی عربی ﷺ تشریف لائے، تو زندہ شعور رکھنے والوں نے آپ کو پہچان لیا، لیکن جن کے لیے دین صرف آبائی رواج تھا، انہیں آپ کی آواز نامانوس لگی اور وہ مخالف بن گئے۔

  • علامات کی موجودگی: تورات میں واضح علامات کے باوجود یہود نے آپ ﷺ کو ماننے سے انکار کر دیا، جس کی اصل وجہ دنیوی مفادات اور مصلحتیں تھیں۔


مذہبی سرداری اور مفادات کا ڈھانچہ

یہود کے انکار کی بنیادی وجوہات درج ذیل تھیں:

  1. گدی نشینی: وہ بزرگوں کی گدیوں پر بیٹھ کر عوام کا مرکز بنے ہوئے تھے۔

  2. نذرانے: مذہب کے نام پر انہیں سال بھر نذرانے ملتے تھے، جو ان کی معیشت کا سہارا تھے۔

  3. بڑائی کا خوف: انہیں خطرہ محسوس ہوا کہ اگر نبی ﷺ کو مان لیا تو ان کی مذہبی سرداری اور مفادات کا سارا ڈھانچہ ٹوٹ جائے گا۔

  4. مشتبہ پراپیگنڈا: جب لوگ ان سے نبی ﷺ کے بارے میں پوچھتے، تو وہ معصومانہ انداز میں کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیتے تاکہ مشن مشتبہ ہو جائے۔ وہ دوسروں کو تو حق پرستی کا وعظ دیتے، مگر خود حق کا ساتھ دینے میں ناکام رہے۔


حق کی پکار اور خشوع کی راہ

اللہ کی پکار پر لبیک کہنا تب مشکل ہوتا ہے جب اس کی قیمت پر:

  • اپنی زندگی کا ڈھانچہ بدلنا پڑے۔

  • عزت و شرف کی گدیوں سے اترنا پڑے۔

جو لوگ خشوع (اللہ کے سامنے عاجزی) کی سطح پر جی رہے ہوتے ہیں، ان کے لیے دنیوی مفادات رکاوٹ نہیں بنتے۔ وہ صبر، نماز اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں وہ لذت پا لیتے ہیں جو دوسرے دنیا کے تماشوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ ان کے نزدیک ڈرنے کی اصل چیز اللہ کا غضب ہے، نہ کہ دنیوی نقصان کے اندیشے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں