🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴44🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
مسجد نبوی میں قندیلیں، یہودیوں سے معاہدہ، اور اذان کا آغاز
💡 مسجد نبوی میں روشنی کا انتظام
حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے یہ قندیلیں مسجد میں لٹکا دیں — پھر رات کے وقت ان کو جلا دیا — یہ دیکھ کر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"ہماری مسجد روشن ہو گئی — اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بھی روشنی کا سامان فرمائے — اللہ کی قسم! اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اس کی شادی تم سے کر دیتا۔"
بعض روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مسجد میں قندیل جلائی تھی۔
🛏️ حجرے اور زمینوں کی تقسیم
مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ آپ ﷺ نے دو حجرے اپنی بیویوں کے لیے بنوائے تھے — (باقی حجرے ضرورت کے مطابق بعد میں بنائے گئے) — ان دو میں سے ایک سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا تھا اور دوسرا سیدہ سودہؓ کا۔
مدینہ منورہ میں وہ زمینیں جو کسی کی ملکیت نہیں تھیں — ان پر آپ ﷺ نے مہاجرین کے لیے نشانات لگا دیے — یعنی یہ زمینیں ان میں تقسیم کر دیں۔
کچھ زمینیں آپ کو انصاری حضرات نے ہدیہ کی تھیں — آپ ﷺ نے ان کو بھی تقسیم فرما دیا — اور ان جگہوں پر ان مسلمانوں کو بسایا جو پہلے قبا میں ٹھہر گئے تھے — لیکن بعد میں جب انہوں نے دیکھا کہ قبا میں جگہ نہیں ہے تو وہ بھی مدینہ چلے آئے تھے۔
🏚️ حجروں کی سادگی
آپ ﷺ نے اپنی بیویوں کے لیے جو حجرے بنوائے — وہ کچے تھے — کھجور کی شاخوں، پتوں اور چھال سے بنائے گئے تھے — ان پر مٹی لیپی گئی تھی۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ مشہور تابعی ہیں — وہ کہتے ہیں:
"جب میں چھوٹا تھا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دور میں امہات المومنین کے حجروں میں جاتا تھا — ان کی چھتیں اس قدر نیچی تھیں کہ اس وقت اگرچہ میرا قد چھوٹا تھا — لیکن میں ہاتھ سے چھتوں کو چھو لیا کرتا تھا۔"
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اس وقت پیدا ہوئے تھے جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کو ابھی دو سال باقی تھے — وہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ حضرت ام سلمہؓ کی باندی خیرہ کے بیٹے تھے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں ان الفاظ میں دعا دی تھی:
"اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ عطا فرما اور لوگوں کے لیے پسندیدہ ہوں۔"
🏠 حضرت حارثہ بن نعمانؓ کی قربانی
مسجد نبوی کے چاروں طرف حضرت حارثہ بن نعمان کے مکانات تھے — آنحضرت ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ میں متعدد نکاح فرمائے تھے — جن میں دینی حکمتیں اور مصلحتیں تھیں۔
جب بھی آپ ﷺ نکاح فرماتے — تو حضرت حارثہؓ اپنا ایک مکان یعنی حجرہ آپ ﷺ کو ہدیہ کر دیتے — اس میں آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ کا قیام ہو جاتا — یہاں تک کہ رفتہ رفتہ حضرت حارثہؓ نے اپنے سارے مکان اسی طرح حضور ﷺ کو ہدیہ کر دیے۔
📜 یہودیوں سے صلح کا معاہدہ
اسی زمانے میں آنحضرت ﷺ نے مہاجرین اور انصار مسلمانوں کے سامنے یہودیوں سے صلح کا معاہدہ کیا — اس معاہدے کی ایک تحریر بھی لکھوائی۔
معاہدے میں طے پایا:
یہودی مسلمانوں سے کبھی جنگ نہیں کریں گے
کبھی انہیں تکلیف نہیں پہنچائیں گے
آنحضرت ﷺ کے مقابلے میں وہ کسی کی مدد نہیں کریں گے
اگر کوئی اچانک مسلمانوں پر حملہ کرے — تو یہ یہودی مسلمانوں کا ساتھ دیں گے
ان شرائط کے مقابلے میں مسلمانوں کی طرف سے یہودیوں کی جان و مال اور ان کے مذہبی معاملات میں آزادی کی ضمانت دی گئی۔
یہ معاہدہ جن یہودی قبائل سے کیا گیا — ان کے نام بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نظیر ہیں۔
🤝 مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ (مواخات)
اس کے ساتھ ہی آپ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ کرایا — اس بھائی چارے سے مسلمانوں کے درمیان محبت اور خلوص کا بے مثال رشتہ قائم ہوا۔
اس بھائی چارے کو مواخات کہتے ہیں — یہ حضرت انس بن مالکؓ کے مکان پر ہوا — مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد۔
اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
"اللہ کے نام پر تم سب آپس میں دو دو بھائی بن جاؤ۔"
اس بھائی چارے کے بعد انصاری مسلمانوں نے مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا — وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔
خود مہاجرین پر اس سلوک کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ پکار اٹھے:
"اے اللہ کے رسول! ہم نے ان جیسے لوگ کبھی نہیں دیکھے — انہوں نے ہمارے ساتھ اس قدر ہمدردی اور غم گساری کی ہے — اس قدر فیاضی کا معاملہ کیا ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی… یہاں تک کہ محنت اور مشقت کے وقت وہ ہمیں الگ رکھتے ہیں — اور صلہ ملنے کا وقت آتا ہے تو ہمیں اس میں برابر کا شریک کر لیتے ہیں… ہمیں تو ڈر ہے — بس آخرت کا سارا ثواب یہ تنہا نہ سمیٹ لیں۔"
ان کی یہ بات سن کر حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"نہیں! ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا — جب تک تم ان کی تعریف کرتے رہو گے اور انہیں دعائیں دیتے رہو گے۔"
بعض علماء نے لکھا ہے کہ بھائی چارہ کرانا حضور نبی کریم ﷺ کی خصوصیت میں سے ہے — آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی نے اپنی امت میں اس طرح بھائی چارہ نہیں کرایا۔
اس سلسلے میں روایت ملتی ہے کہ انصاری مسلمانوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنی ہر چیز میں سے نصف حصہ دے دیا:
کسی کے پاس دو مکان تھے — تو ایک اپنے بھائی کو دے دیا
اسی طرح ہر چیز کا نصف اپنے بھائی کو دے دیا
یہاں تک کہ ایک انصاری کی دو بیویاں تھیں — انہوں نے اپنے مہاجر بھائی سے کہا: "میری دو بیویاں ہیں — میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں — عدت پوری ہونے کے بعد تم اس سے شادی کر لینا"
لیکن مہاجر مسلمان نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا۔
📢 اذان کا آغاز — نماز کے لیے لوگوں کو بلانے کا طریقہ
ان کاموں سے فارغ ہونے کے بعد یہ مسئلہ سامنے آیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو کیسے بلایا جائے۔
آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا:
کسی نے کہا: نماز کا وقت ہونے پر ایک جھنڈا لہرا دیا جائے — لیکن آپ ﷺ نے اس تجویز کو پسند نہ فرمایا۔
کسی نے کہا: بگل بجایا جائے — آپ ﷺ نے اس کو بھی ناپسند فرمایا — کیونکہ یہ طریقہ یہودیوں کا تھا۔
کسی نے کہا: ناقوس بجا کر اعلان کر دیا جائے — آپ ﷺ نے اس کو بھی پسند نہ فرمایا — کیونکہ یہ عیسائیوں کا طریقہ تھا۔
کسی نے مشورہ دیا: آگ جلا دی جائے — آپ ﷺ نے اس تجویز کو بھی پسند نہ فرمایا — کیونکہ یہ طریقہ مجوسیوں کا تھا۔
ایک مشورہ یہ دیا گیا: ایک شخص مقرر کر دیا جائے — جو نماز کا وقت ہونے پر گشت لگا لیا کرے
چنانچہ اس رائے کو قبول کر لیا گیا — اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اعلان کرنے والا مقرر کر دیا گیا۔
🌙 اذان کا خواب اور اس کی قبولیت
انہی دنوں حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا — انہوں نے ایک شخص کو دیکھا — اس کے جسم پر دو سبز کپڑے تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک ناقوس (بگل) تھا۔
حضرت عبداللہ بن زیدؓ فرماتے ہیں:
"میں نے اس سے پوچھا: کیا تم یہ ناقوس فروخت کرتے ہو؟"
اس نے پوچھا: "تم اس کا کیا کرو گے؟"
میں نے کہا: "ہم اس کو بجا کر نمازیوں کو جمع کریں گے۔"
اس پر وہ بولا: "کیا میں تمہیں اس کے لیے اس سے بہتر طریقہ نہ بتا دوں؟"
میں نے کہا: "ضرور بتائیے۔"
اب اس نے کہا: "تم یہ الفاظ پکار کر لوگوں کو جمع کیا کرو۔"
اور اس نے اذان کے الفاظ دہرا دیے — یعنی پوری اذان پڑھ کر انہیں سنا دی — پھر تکبیر کہنے کا طریقہ بھی بتا دیا۔
🔊 اذان کا نفاذ
صبح ہوئی تو حضرت عبداللہ بن زیدؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے — اور اپنا یہ خواب سنایا۔
خواب سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"بے شک! یہ سچا خواب ہے — ان شاء اللہ! تم جا کر یہ کلمات بلال کو سکھا دو — تاکہ وہ ان کے ذریعے اذان دیں — ان کی آواز تم سے بلند ہے اور زیادہ دلکش بھی ہے۔"
حضرت عبداللہ بن زیدؓ حضرت بلالؓ کے پاس آئے — انہوں نے کلمات سیکھ کر صبح کی اذان دی۔
اس طرح سب سے پہلے اذان فجر کی نماز کے لیے دی گئی۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں