دین داری کی حقیقت: خوش گمانی یا عمل؟
"یہود کا یہ حال تھا کہ اُن کے افراد عملاً اللہ کے دین پر قائم نہ تھے۔"
سبق نمبر 29
آیاتِ مبارکہ
قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِّنْهُم مَّا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (٦٨) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَىٰ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (٦٩) (سورۃ المائدہ: آیات ۶۸ تا ۶۹)
ترجمہ
کہہ دو: اے اہل کتاب! تم کسی (دینی) چیز پر نہیں ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل کو اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اسے قائم نہ کرو۔ اور جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سوں کے سرکشی اور کفر میں اضافہ کرے گا۔ تو تم کافروں پر افسوس نہ کرو۔ یقیناً جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی اور نصرانی، جو کوئی بھی اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
تشریح و تجزیہ
یہود کا یہ حال تھا کہ ان کے افراد عملاً اللہ کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوں نے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو اللہ کے تابع نہیں کیا تھا۔
خوش گمانی کا فریب: انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ اللہ کے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے۔
اصل معیار: اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ وہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بات کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو اللہ کے دین پر قائم کرے۔
دعوتِ حق اور ردِ عمل
جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں، ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے، نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی، تو وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔
ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔
ان کی نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی خود پرستی بے پردہ ہو جاتی ہے۔
جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چاہیے تھا، اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔
گروہی مذہب بمقابلہ انفرادی مسئولیت
قدیم زمانے کے پیغمبروں کے ماننے والوں کی نسلیں مستقل قوم کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا، البتہ اپنی عظمت کے قصیدے باقی رہ جاتے ہیں۔
گروہی زعم: ہر گروہ کو لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں اور ہماری نجات یقینی ہے۔
انفرادی مقدمہ: اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا، اور فیصلہ اس کے اپنے اعمال کی بنیاد پر ہوگا، نہ کسی اور بنیاد پر۔
خلاصہ: اللہ کی کتاب کو قائم کرنے کا مفہوم
اللہ کی کتاب کو قائم کرنا ان تین چیزوں کا نام ہے:
اللہ پر یقین کرنا۔
آخرت کی پکڑ کے اندیشے کو اپنے اوپر طاری کرنا۔
انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنا۔
آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میں اسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ اللہ کی نظر میں بالکل بے قیمت ہو جاتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں