گمراہی کا سبب اور حق کی پہچان


 

گمراہی کا سبب اور حق کی پہچان

"تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہو جانا ہے۔"

سبق نمبر 28

آیاتِ مبارکہ

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ ۖ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ ۝٦٥ وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۖ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ ۝٦٦ (سورۃ المائدہ: آیات ۶۵ تا ۶۶)


ترجمہ

"اور اگر اہلِ کتاب ایمان لاتے اور اللہ سے ڈرتے، تو ہم ضرور اُن کی برائیاں اُن سے دور کر دیتے اور اُن کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے۔ اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھتے اور اُس چیز کو (بھی مانتے) جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے۔ ان میں کچھ لوگ سیدھی راہ پر ہیں، لیکن ان میں زیادہ تر لوگ بہت برے کام کرتے ہیں۔"


تشریح و بصیرت

تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہو جانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کون سی بات اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہے۔

  • ڈر کی نفسیات: ڈر کی نفسیات انسان کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو ختم کر دیتی ہے اور آدمی اللہ کی بات کو فوراً پہچان کر اسے مان لیتا ہے۔

  • جنت کا راستہ: اللہ کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔


مفادات کی دیوار اور دعوتِ حق

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہو جاتے ہیں جو سابقہ نظام کے تحت سرداری کا مقام حاصل کیے ہوئے ہوتے ہیں۔

  1. خوفِ زوال: انہیں اندیشہ ہوتا ہے کہ اس دعوت کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہو جائیں گی۔

  2. اصل حقیقت: ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ دعوتِ حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں، وہی انکار وہ چیز ہے جو اللہ کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کر رہا ہے۔


خود ساختہ دین بمقابلہ اصل دین

آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط کر کے وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتی ہیں۔

  • انسیت کا فریب: لمبی مدت گزرنے کے بعد وہ اسے ہی اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔

  • متوحش ہونا: جب اللہ کا سیدھا اور سچا دین سامنے آتا ہے تو وہ اسے اپنے لیے غیر مانوس پا کر ڈر جاتے ہیں۔

اعتدال کی راہ: یہود و نصاریٰ کی اکثریت اسلام سے دور رہی، مگر چند لوگ (مثلاً نجاشی شاہِ حبش، عبداللہ بن سلام وغیرہ) جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انہوں نے اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستے پر چل رہے ہوں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں