🤐 محاورہ: "اپنا سا منھ لے کر رہ جانا"

🗣️ تلفظ (Apnā sā muṅh lē kar rah jānā) 🎙️

📖 معانی و مفہوم اس محاورے کا مطلب ہے کہ:

  • کسی کام میں ناکامی یا کسی بات پر سخت شرمندگی کے بعد خاموش ہو جانا۔ 🤫

  • جب کوئی شخص کسی پر الزام لگائے یا کوئی امید باندھے اور وہ غلط ثابت ہو جائے، تو اس پر طاری ہونے والی ندامت۔

  • نہایت خفیف (شرمندہ) اور نادم ہونا۔

🔹 سادہ الفاظ میں: شرمندگی کی وجہ سے کچھ بولنے کے قابل نہ رہنا۔ 😶

📍 موقع و محل یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی شخص کسی کی برائی کر رہا ہو اور اچانک وہی شخص سامنے آ جائے۔

  • کسی نے بڑی امید سے کوئی فرمائش کی ہو اور اسے صاف انکار کر دیا جائے۔

  • جب کسی کی چوری یا جھوٹ رنگے ہاتھوں پکڑا جائے اور اسے جواب نہ سوجھے۔

مثال: "حامد نے بڑے فخر سے دعویٰ کیا تھا کہ وہ امتحان میں اول آئے گا، لیکن جب فیل ہوا تو سب کے سامنے اپنا سا منھ لے کر رہ گیا۔" 📉😔

📜 تاریخ و پس منظر یہ محاورہ اردو زبان کے قدیم اور مستند محاوروں میں سے ہے۔ یہاں "اپنا سا منھ" سے مراد وہ چہرہ ہے جس پر شرمندگی کے آثار نمایاں ہوں۔ جب انسان کسی ایسی صورتحال میں پھنستا ہے جہاں اس کی انا کو ٹھیس پہنچے یا اس کی بات غلط ثابت ہو، تو وہ دوسروں سے نظریں چرانے لگتا ہے اور اس کا چہرہ اتر جاتا ہے۔ اسی اتری ہوئی صورت کو 'اپنا سا منھ' کہا جاتا ہے۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک صاحب اپنی کنجوسی کے لیے مشہور تھے مگر دوسروں کے سامنے بہت سخی بننے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دن محفل میں بولے: "میں تو ہر غریب کی مدد کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہوں!" اتنے میں ان کا نوکر دوڑتا ہوا آیا اور سب کے سامنے بولا: "صاحب! وہ کل والا فقیر پھر آیا ہے، کہہ رہا ہے کہ پانچ روپے تو دے دیں جو آپ نے پچھلے سال ادھار لیے تھے!" پوری محفل میں قہقہہ گونج اٹھا اور وہ سخی صاحب سب کے سامنے اپنا سا منھ لے کر رہ گئے۔ 😂

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں