🚫 سیاسی جماعتوں کے جلسوں اور تقریبات میں بطور فنڈ زکوٰۃ دینے کا حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 15
زکوٰۃ کی ادائیگی اور تملیک کی شرط
شرعی طور پر زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک (یعنی مستحقِ زکوٰۃ کو رقم کا مختار و مالک بنا کر دینا) بنیادی شرط ہے۔ اس اہم شرط کی روشنی میں درج ذیل احکام واضح ہیں:
سیاسی فنڈز: کسی بھی جماعت کے کسی قسم کے جلسے، اجتماع، اراکین کی کانفرنس یا دیگر جماعتی تقریبات کے لیے فنڈ کے طور پر زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں ہے۔
وجہ ممانعت: اس طرح کی تقریبات یا جلسوں میں مستحق کو مالک بنا کر زکوٰۃ دینے کی شرط مفقود (غائب) ہوتی ہے۔
ادائیگی کا حکم: اگر کسی نے ان کاموں میں زکوٰۃ کی رقم صرف کی ہو تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی اور وہ فرض اس کے ذمے باقی رہے گا۔
📚 مستند حوالہ
ادارہ: دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144704102155
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
زکوٰۃ کے صحیح مصارف اور جدید مسائل کی شرعی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا سیاسی جماعتوں کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ تملیک کی شرط اور سیاسی جلسوں میں زکوٰۃ خرچ کرنے سے متعلق جامعہ بنوری ٹاؤن کا مستند شرعی فتویٰ۔
Keywords: سیاسی فنڈ میں زکوٰۃ، تملیک کی شرط، جلسوں میں زکوٰۃ، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، Zakat for Political Parties.
Hashtags:
#Zakat #مسائل_زکوٰۃ #سیاسی_فنڈ #جامعہ_بنوری_ٹاؤن #اسلامی_فقہ #مفتی_عرفان_اللہ #رمضان_2026

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں