⏳ کیا فجر کی اذان شروع ہونے تک سحری کھائی جا سکتی ہے؟


 

⏳ کیا فجر کی اذان شروع ہونے تک سحری کھائی جا سکتی ہے؟

مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)

سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 18


سحری کا وقت اور اذان کا تعلق

عوام میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ جب تک اذان ہو رہی ہو، کھانا پینا جائز ہے۔ اس حوالے سے شرعی حکم درج ذیل ہے:

  • وقت کی حد: سحری کا وقت صبح صادق تک ہوتا ہے۔ جیسے ہی صبح صادق ہوتی ہے، سحری کا وقت ختم اور فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔

  • اذان کا وقت: فجر کی اذان ہمیشہ صبح صادق ہونے کے بعد دی جاتی ہے۔

  • اذان کے دوران کھانا: چونکہ اذان وقت شروع ہونے پر دی جاتی ہے، اس لیے اذان شروع ہونے کے بعد کھانا پینا شرعاً جائز نہیں ہے۔

  • غلطی کا حکم: اگر کسی نے لا علمی میں اذان کے دوران کچھ کھا پی لیا، تو اس کا روزہ نہیں ہوگا اور بعد میں اس روزے کی قضا کرنا لازم ہوگی۔


📚 حوالہ و فتویٰ

  • ماخذ: دار الافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

  • فتویٰ نمبر: 144509100954


📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم

مستند دینی معلومات اور فقہی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں: 🌐 آن لائن بلاگ: [www.alkamunia.com] 🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم: [www.itdarasgah.pk]


🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز

  • Meta Description: کیا اذانِ فجر کے دوران سحری کھانا جائز ہے؟ جانئے صبح صادق اور سحری کے اختتامی وقت سے متعلق جامعہ بنوری ٹاؤن کا مستند شرعی فیصلہ۔

  • Keywords: سحری کا وقت، اذان اور سحری، روزہ کی قضا، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، رمضان کے مسائل، Suhoor time limit.

  • Hashtags: #Ramadan2026 #مسائل_رمضان #سحری #روزہ #اذان_فجر #فقہی_مسائل #جامعہ_بنوری_ٹاؤن #مفتی_عرفان_اللہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں