💉 روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے کا شرعی حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 17
انجکشن اور روزہ
جدید طبی مسائل میں انجکشن کا استعمال عام ہے، اس حوالے سے شرعی حکم درج ذیل ہے:
جواز: روزے کی حالت میں کسی بھی قسم کا انجکشن (خواہ رگ میں ہو یا گوشت میں) لگوانا شرعاً جائز ہے۔
روزے پر اثر: انجکشن لگوانے سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا، یعنی روزہ نہیں ٹوٹتا۔
طاقت کا انجکشن: اگر کوئی شخص محض اس لیے طاقت کا انجکشن لگوائے تاکہ اسے روزہ محسوس نہ ہو یا بھوک پیاس کی شدت کا احساس نہ ہو، تو ایسا کرنا مکروہ ہے۔
وضاحت: کراہت کے باوجود اس صورت میں بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔
📚 حوالہ و فتویٰ
ماخذ: دار الافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144008200805
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
دینی و فقہی مسائل کی مستند معلومات کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا روزے میں انجکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ طاقت کے انجکشن اور ڈرپ کے حوالے سے جامعہ بنوری ٹاؤن کا مستند شرعی حکم جانئیے۔
Keywords: روزے میں انجکشن، طاقت کا انجکشن، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، مسائل رمضان، Injection during fasting.
Hashtags:
#Ramadan2026 #مسائل_رمضان #روزہ #انجکشن #فقہی_مسائل #جامعہ_بنوری_ٹاؤن #مفتی_عرفان_اللہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں