🛡️ روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی شرعی اجازت اور آداب


 

🛡️ روزہ نہ رکھنے یا توڑنے کی شرعی اجازت اور آداب

مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)

سلسلہ: مسائلِ رمضان المبارک | پوسٹ نمبر: 15


اعذار اور شرعی احکامات

شریعتِ مطہرہ نے انسانی جان کی حفاظت اور مخصوص جسمانی کیفیات کے پیشِ نظر درج ذیل رعایتیں دی ہیں:

  • جان کا خطرہ: اگر بیماری یا بھوک پیاس کا اتنا شدید غلبہ ہو جائے کہ جان جانے کا حقیقی خطرہ لاحق ہو، تو ایسی صورت میں روزہ توڑ دینا نہ صرف جائز ہے بلکہ واجب ہے۔ اس صورت میں صرف اس روزے کی قضا لازم ہوگی، کفارہ واجب نہیں ہوگا۔

  • خواتین کے مخصوص ایام: عورت کے لیے ایامِ حیض (ماہواری) اور بچہ کی پیدائش کے بعد آنے والے خون (نفاس) کے دوران روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔ ان دنوں میں وہ روزے نہ رکھے، بلکہ پاک ہونے کے بعد ان کی قضا کرے۔

  • رمضان کا احترام: بیمار، مسافر، اور حیض و نفاس والی خواتین کے لیے رمضان میں روزہ نہ رکھنا اور کھانا پینا جائز ہے۔ تاہم، رمضان المبارک کے تقدس اور احترام کی وجہ سے ان کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ سب کے سامنے (علانیہ) کھانے پینے سے احتراز کریں۔


📚 مستند حوالہ

  • ماخذ: احکامِ رمضان المبارک، دار العلوم دیوبند


📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم

رمضان کے مسائل اور شرعی اعذار کی تفصیلی معلومات کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں: 🌐 آن لائن بلاگ: [www.alkamunia.com] 🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم: [www.itdarasgah.pk]


🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز

  • Meta Description: کن حالات میں روزہ توڑنا واجب ہو جاتا ہے؟ حیض و نفاس اور بیماری کے دوران روزے کے احکام اور رمضان کے احترام کے حوالے سے دارالعلوم دیوبند کی مستند رہنمائی۔

  • Keywords: روزہ توڑنے کی اجازت، حیض و نفاس کے روزے، مسافر کا روزہ، مفتی عرفان اللہ درویش، احکامِ رمضان، دارالعلوم دیوبند، Fasting Exemptions Islam.

  • Hashtags: #Ramadan2026 #مسائل_رمضان #روزہ #شرعی_عذر #احکام_رمضان #اسلامی_فقہ #دارالعلوم_دیوبند #مفتی_عرفان_اللہ


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں