سبق نمبر 48: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 

سبق نمبر 48: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورہ واقعہ کا خلاصہ

قیامت کے دن انسانوں کی تین قسمیں اس سورت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن پوری کائنات کے انسان تین قسموں میں منقسم ہو جائیں گے جن میں سے دو قسمیں تو نجات یافتہ ہوں گی اور ایک قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے۔

  1. اصحابُ الیمین (دائیں ہاتھ والے)

  2. مقرّبین

  3. اصحابُ الشمال (بائیں ہاتھ والے)

اول الذکر دو گروہ نجات یافتہ ہوں گے اور مؤخر الذکر فرقہ ہلاکت کے گڑھے میں گر جائے گا۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: نجات یافتہ افراد اور ان کی ضیافت اولًا تو اس رکوع میں اجمالی طور پر مذکورۃ الصدر تین قسمیں دہرائی گئی ہیں، پھر اس کے بعد مقرّبین اور اصحاب الیمین کا انجام ذکر کیا جا رہا ہے کہ: مقرّبین جڑاؤ تختوں پر آمنے سامنے تکیے لگائے ہوئے جنت کو رونق بخش رہے ہوں گے، آب خورے اور شرابِ طَہور سے بھرے ہوئے جام لئے ہوئے ہر وقت نو عمر خوبصورت غلام موجود ہوں گے، میوہ جات، پرندوں کا گوشت، ایسی خوبصورت آنکھوں والی زوجہ محترمہ گویا کہ تہ بہ تہ رکھے ہوئے خوبصورت موتی ہوں، اور سلام کے علاوہ کوئی لغو اور بیہودہ بات نہ سنیں گے۔ اور اصحاب الیمین بے کانٹوں کی بیریوں، گتھے ہوئے کیلوں، لمبے اور طویل سایوں، عمدہ پانی کی خوبصورت آبشاروں، باافراط میوؤں اور اونچے بالاخانوں میں اپنی ہم عمر کنواری ازواجِ محترمات کے ساتھ لطف اندوز ہوں گے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: اصحابُ الشمال کا ذکر اس رکوع میں اصحاب الشمال کا ہولناک اور خوفناک انجام ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کھولتے ہوئے پانی اور سیاہ دھوئیں کے ذریعے اذیت دی جائے گی، کیونکہ قبل ازیں خوشحالی کے زمانے میں انہوں نے شرکِ عظیم کا ارتکاب کیا تھا اور قیامت کا انکار کیا تھا۔ اب انہیں مہمان نوازی کے طور پر کھانے میں زَقّوم (انتہائی کانٹے دار درخت) اور پینے میں کھولتا ہوا پانی پیش کیا جائے گا۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: اعادۂ اقسامِ ثلاثہ خلاصۂ کلام کے طور پر آخر میں پھر ان تینوں اقسام کا ذکر کر کے انجامِ کار کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے تاکہ ہر انسان اپنا ٹھکانہ طے کر لے کہ اسے کہاں جا کر بسنا چاہیے۔


سورہ حدید کا خلاصہ

اخذِ میثاق اس سورت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ہر انسان اللہ تعالیٰ سے پکا وعدہ کر کے آیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائے گا، لیکن دنیا میں آنے کے بعد بعض لوگ اس وعدے کو وفا کر کے دکھاتے ہیں اور مومنین و اصحاب الجنۃ کے لقب سے ملقب ہوتے ہیں، اور بعض لوگ وعدہ خلافی کر کے کفار و اصحاب النار کے اعزاز سے معزز ہوتے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: حصولِ عزت و غلبہ کے دو اصول اگر تم عزت اور غلبہ چاہتے ہو تو ان دو رہنما اصولوں پر عمل کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں عزتیں اور کامیابیاں نصیب فرمائے گا:

  1. فناء فی اللہ — اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے ارادے کے تابع کر کے ان کے احکام پر عمل پیرا ہونے کے لئے بے چین و بےقرار رہنا/

  2. انفاق فی سبیل اللہ — اللہ کے راستے میں دل کھول کر خرچ کرنا۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: انفاق اور ترکِ انفاق کا نتیجہ جو لوگ راہِ خداوندی میں اپنا مال خرچ کرنا اپنے لئے سعادت اور خوش بختی سمجھتے ہیں، یہ مال واقعۃً ان کے لئے خوش کن ثابت ہوگا۔ چنانچہ آخرت میں جب ہر ایک پر اس کی بداعمالیوں کا اندھیرا چھایا ہوا ہوگا، اس وقت یہ عمل ان کے لئے مینارۂ نور بن کر ظاہر ہوگا۔ اور جو لوگ راہِ خداوندی میں مال خرچ کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، ایسے لوگ دنیا میں منافق اور آخرت میں نورِ ایمانی سے محروم ہوں گے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: ترکِ انفاق کا ایک اور خطرناک نتیجہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کا انتہائی خطرناک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان دنیا میں ملوث ہو کر دنیا ہی کا ہو کر رہ جاتا ہے، پھر اسے باہمی تفاخر کے لئے مال و دولت کی ضرورت ہوتی ہے اور اپنی شہوت پوری کرنے کے لئے عورت کی بھی۔ اس لئے اس دنیا کو چھوڑ کر ربِ رحیم کی مغفرت اور جنت کی طرف مسابقت کرو۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: رہبانیت ایک بدعت اس رکوع میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ خلقِ خدا پر ہمیشہ دستِ شفقت و رحمت رکھنا چاہئے اور جو قانون اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، اس کو بدعات کے اختلاط سے بچایا جائے، جیسا کہ سابقہ امتوں نے اپنی کتابِ ہدایت میں اپنی طرف سے رہبانیت کو شامل کر لیا اور دین کا حصہ بنا کر اس پر مصر ہوئے۔


سورہ مجادلہ کا خلاصہ

مسلمانوں کی تربیت کا ایک پروگرام اسلام سے قبل شوہر اپنی بیوی سے ظِہار اسے اپنی محرمات کی پشت کی طرح حرام قرار دے کر ازدواجی تعلقات قائم نہ کرتا تھا۔ زمانۂ اسلام میں عورت کی قرار واقعی حیثیت تسلیم کر کے اس کے لئے کفارۂ ظہار مقرر کیا گیا۔ کسی کے ساتھ سرگوشی کرنے کے احکامات متعین کئے گئے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: کسی کے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر کے انہیں اپنی محرمات کی طرح اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں، ان کے کہنے سے وہ عورتیں ان کی ماں نہیں بن جائیں گی۔ البتہ اس بیہودہ جملے کی سزا یہ ہے کہ بیوی کے قریب جانے سے پہلے:

  1. ایک غلام کو آزاد کرے یا

  2. دو مہینے کے مسلسل روزے رکھے یا

  3. ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: حاضر و ناظر ذات اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر ایک کے ساتھ موجود ہے۔ اس لئے اعمال میں جان پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ گناہوں کے کاموں کے لئے سرگوشی سے بچا جائے اور صرف نیکی کے کاموں میں سرگوشی کی اجازت ہے۔ مجلس میں کسی نئے آدمی کے آنے پر جگہ کشادہ کی جائے، اور حضور ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری دل و جان سے کی جائے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: خدا پرست جماعت کی خصوصیت جو لوگ اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان ویقین کی دولت سے سرشار ہیں، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ کبھی بھی محبت و مودت کا معاملہ نہیں کر سکتے خواہ وہ ان کے آباؤ اجداد اور بھائی بھتیجے ہی کیوں نہ ہوں۔ دنیا میں اس ایثار و قربانی کا بدلہ آخرت میں عمدہ باغات اور رضوانِ رب کی صورت میں دیا جائے گا۔

"آج الحمدللہ سورة واقعی سورۃ حدید اور سورۃ مجادلہ کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة حشر شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں