سبق نمبر 45: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 

سبق نمبر 45: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورہ محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) کا خلاصہ

تقابلِ اسلام اس سورت میں جہاں جہاد و قتال کے احکام و مسائل بیان کئے جا رہے ہیں، وہیں اسلام کا کفر و نفاق کے ساتھ ایک تقابلی جائزہ پیش کرنا بھی مقصود ہے تا کہ ہر ایک کی حقیقت بھی آشکارا ہو جائے اور یہ بھی کہ اگر ان کے درمیان تقابل ہو جائے تو اسلامی احکام و تعلیمات کیا کیا ہیں؟

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: اصولِ جنگ مجاہدینِ اسلام کا جب کافروں سے مقابلہ ہو تو ان سے جی داری کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہئے، انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دینا چاہئے کہ وہ پینترا بدل کر حملہ آور ہو سکیں، بلکہ جب جنگ زوروں پر ہو اور مرنے مارنے کا سلسلہ جاری ہو تو دشمنانِ دین کو قیدی بنانے کی بھی اجازت ہے۔ اس کے بعد احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر چھوڑنا امیر کی صواب دید پر موقوف ہے۔ قتل و حبس کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھنا چاہئے جب تک جنگ اپنے ہتھیار نہ رکھ دے اور لڑائی فیصلہ کن مرحلے سے گزر کر تمہارے حق میں نہ ہو جائے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: جنت اور جہنم کی ایک مثالی تصویر ذرا چشمِ تصور کو کشادگی بخش کر میرے ساتھ ایک مکان کا معائنہ فرمائیے جس میں ایک بہت وسیع و عریض سرسبز و شاداب باغ ہے اور اس باغ میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ پوری چار نہریں نہایت آب و تاب کے ساتھ بہہ رہی ہیں:

  1. ماءٍ خالص (خالص پانی) کی نہر

  2. خالص دودھ کی نہر

  3. پاکیزہ اور ہر قسم کی گندگی سے پاک شراب کی نہر

  4. انتہائی اعلیٰ اور خالص شہد کی نہر

اس منظر کو ہر انسان انتہائی عمدہ، فرحت بخش اور خوبصورت قرار دے گا۔ دوسری طرف ایک خوفناک اور کریہ منظر یہ دکھایا گیا ہے کہ ایک آدمی کو اتنا کھولتا ہوا پانی پِلایا گیا کہ وہ اس کی آنتوں کو چیرتا اور کاٹتا ہوا باہر نکل آیا۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں منظر کبھی برابر نہیں ہو سکتے، اس لئے اس کے حقدار بھی برابر نہیں ہو سکتے۔ اول الذکر کے حق دار "جنتی" اور مؤخر الذکر کے حق دار "جہنمی" کے نام سے موسوم ہوں گے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: قرآنِ کریم میں تدبر کی دعوت منافقین کی حالتِ زار یہ ہے کہ وہ ہر وقت اس بات سے لرزہ براندام رہتے ہیں کہ کہیں ان کا پول نہ کھل جائے اور جہاد و قتال سے ہمیشہ جی چراتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے قرآنِ کریم میں کبھی تدبر اور غور و فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ ان کی یہ منافقانہ عادات اور خصائلِ رذیلہ ان سے زائل ہوں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں جس سے یہ قرآنِ کریم کی دعوت کو قبول نہیں کرتے۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: کھرے اور کھوٹے میں امتیاز آیاتِ جہاد و قتال کے نازل ہونے کے بعد جو لوگ جہاد میں شریک ہوتے ہیں، ان میں سے بعض تو دکھاوے کے لئے شریک ہوتے ہیں اور اس لالچ میں کہ فتح ہوئی تو مالِ غنیمت میں سے حصہ ملے گا، اور بعض لوگ پورے اخلاص کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ ان کی علامت یہ ہے کہ وہ اطاعتِ خدا و رسول کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں، راہِ خداوندی میں ہر وقت مال خرچ کرنے کا موقع تلاش کرتے رہتے ہیں، جبکہ منافقین کسی نہ کسی طرح اپنے بخل پر پردہ ڈالے رکھتے ہیں، لیکن ان کے اس بخل کا نقصان انہی کو ہوگا۔ اصل مقصد تو کھرے اور کھوٹے میں ایسا امتیاز ہے کہ ہر ایک کو نظر آ جائے۔


سورہ فتح کا خلاصہ

بشارتِ فتح اس سورت میں اسلام کے فاتح اور کفر کے مفتوح، اسلام کے غالب اور کفر کے مغلوب، اسلام کے عزیز اور کفر کے ذلیل ہونے کی بشارت دی جا رہی ہے، نیز شرائطِ فتح بھی اس سورت کا حصہ ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: حضورِ اقدس ﷺ کی سرفرازی حضورِ اقدس ﷺ نے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں دعوت و تبلیغ کرتے ہوئے اور اس راہ میں پیش آمدہ مصائب و مشکلات پر صبر کرتے ہوئے گزارے، پھر چھ سال صلحِ حدیبیہ کے معاہدے تک گزارے۔ آپ کی اس محنت کو بارگاہِ ایزدی سے شرفِ قبولیت عطا فرما کر آپ کی سرفرازی کے اعلان کے طور پر چار وعدے کئے گئے:

  1. مغفرت کا اعزازی تمغہ (اعزازی اس لئے کہ آپ کے گناہ ہی نہ تھے تو مغفرت کس بات پر؟)

  2. اتمامِ نعمت

  3. ہدایتِ صراطِ مستقیم

  4. نصرِ عزیز

اور ساتھ ہی منافقین و مشرکین کے جہنم میں داخلے کا وعدہ بھی کیا جا رہا ہے تا کہ ان کی امیدوں پر اوس پڑ جائے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: مخلفین اور عاجزوں کا ذکر جو دیہاتی لوگ جہاد میں جانے سے پیچھے رہے، مسلمانوں کی واپسی کے بعد وہ مختلف عذر پیش کریں گے، مثلاً: مال و اولاد کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا، بیوی بچے گھر میں اکیلے تھے، سواری کا انتظام نہیں ہو سکا وغیرہ۔ اور تقسیمِ غنیمت کے موقع پر یہ سب سے آگے آگے ہوں گے۔ بصورتِ دیگر ان کا الزام یہ ہوگا کہ تم تو ہم سے بہت حسد کرتے ہو، اگر کسی کو مال و دولت مل جائے اور اس کا بھلا ہو جائے تو تمہارا کیا بگڑتا ہے؟ ان لوگوں سے بچاؤ کا بندوبست اللہ تعالیٰ نے پہلے سے کر رکھا ہے، چنانچہ ان کا مقابلہ ایک طاقتور جماعت سے ہوگا جو انہیں کچل کر رکھ دے گی۔ البتہ جو لوگ عاجز ہیں، شریعت نے انہیں معذور قرار دیا ہے اور ان پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: بیعتِ موت کے نتائج حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں اترنے والی یہ آیات پڑھ کر چودہ سو سال پہلے کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے جب کہ وہ مکہ مکرمہ میں سفیر بنا کر بھیجے گئے۔ ان کی شہادت کی خبر مشہور ہونے پر سرکارِ دو عالم ﷺ نے ایک درخت کے نیچے تمام صحابہ کرام سے شہادتِ عثمان کا بدلہ لینے کے لئے موت پر بیعت لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں پر سکینہ کی ایک کیفیت طاری کر دی اور فتحِ مکہ جیسی شاندار کامیابی سے سرفراز فرمایا۔ بہت سی غنیمتوں اور فتحِ خیبر کا وعدہ فرمایا جو کہ پورا ہو کر رہا۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: مسلمانوں کی زندگی کا دستورالعمل اولاً تو اس رکوع میں مسلمانوں کی سرفرازی کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ عنقریب وہ شہرِ مکہ—جہاں سے انہیں بے بس کر کے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا تھا—وہیں وہ اور تمام مسلمان فاتحانہ شان سے داخل ہوں گے۔ نہ کسی قسم کا خوف ہوگا اور نہ وہاں کوئی دم مارنے والا ہوگا۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کے لئے دستورالعمل یہ ہے کہ حضور ﷺ کی معیت میں رہنے والوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ وہ آپس میں بڑے رحم دل اور کفار پر بہت سخت ہوتے ہیں، رکوع و سجود اور دیگر عبادات کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے میں ایسے کوشاں رہتے ہیں کہ پیشانی پر کثرتِ سجود کے سبب نشان پڑ جاتے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ سے راضی ہوں۔

"آج الحمدللہ سورة محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) اور سورۃ فتح کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة حجرات شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں