سبق نمبر 44 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 44: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ دخان کا خلاصہ

دعوت الی القرآن اس سورت کی وجہِ امتیاز بیانِ وقتِ نزولِ قرآن ہے کہ قرآن کریم کا نزول لیلۃُ المبارکہ میں ہوا ہے۔ لیلۃُ المبارکہ کی تعیین میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ یہ وہی مبارک رات ہے جس میں تمام امور کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔

رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: وقوعِ عذاب کے وقت توبہ کی حیثیت قرآنِ کریم جیسے بابرکت کلام و کتاب کو ایک بابرکت رات میں، ایک بابرکت فرشتے کے ذریعے، ایک بابرکت ذات کی جانب سے، ایک بابرکت ذات پر نازل کیا گیا۔ لیکن بعض جہلاء اور حمقاء اس دستورِ حیات کا انکار کرتے ہیں اور اسے ایک کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ خوب سمجھ لیں! کہ ایک ایسا دن آئے گا جس میں ایک آسمانی دھواں انہیں گھیر لے گا، اس وقت یہ رو رو کر دعائیں کریں گے کہ اے اللہ! ہم سے یہ عذاب دور کر دے، ہم پکا سچا ایمان قبول کرتے ہیں۔ لیکن یہ توبہ کا وقت نہیں۔ اس سے قبل ساری زندگی فرعون، شدّاد اور نمرود بن کر گزاری، مرتے وقت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام کا درجہ چاہتے ہو؟ اَیں خیال است و محال است و جنوں

رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: کفارِ مکہ کی کیا حیثیت؟ کفارِ مکہ اپنے آپ کو بڑا مالدار، طاقتور اور بہادر و شجاع خیال کرتے ہیں۔ ذرا تاریخ پر نظر دوڑا کر دیکھیں تو سہی! سفینۂ تاریخ میں انہیں تُبَّع حِمیری اور اس کی مضبوط قوم نظر آئے گی، مال و دولت سے بھرپور قارون دکھائی دے گا، دنیا میں جنت بنانے والا شدّاد نظر آئے گا، خدائی کا دعویٰ کرنے والا فرعون سامنے آئے گا۔ کیا کفارِ مکہ ان سے بھی زیادہ طاقتور و مالدار ہیں؟ ہم نے انہیں تباہ کر دیا تو ان کی کیا حیثیت ہے؟ انہیں بھی پنجوں سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: جہنم کا ایک دلدوز نظارہ اس رکوع کو انسان اگر رقتِ قلب کے ساتھ پڑھے تو اس پر خوف و دہشت کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ وہ جہنم کو ایک خوفناک بلا اور عذابِ الٰہی کا مرکز سمجھنے میں ذرّہ برابر بھی تامل نہ کرے گا۔ کھانے کو زقوم ملے گا جو پیٹ میں جا کر پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولے گا، اور اللہ رب العالمین کی بارگاہ سے ندا لگائی جائے گی کہ اسے پکڑ کر وسطِ جہنم میں دھکا دے کر پھینک دو اور اس کے سر پر جہنم کا کھولتا ہوا پانی ڈالو تاکہ یہ اپنے کئے کا مزہ چکھے۔ دنیا میں یہ کہا کرتا تھا: إنِّي أَنَا الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ آج اسے کہا جائے گا کہ اس عذاب کا مزہ تو چکھ: إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ رہے اہلِ جنت! تو ان کا پوچھنا ہی کیا؟ وہاں کی لذتوں اور مسرتوں کی پوری کیفیت سمجھنے سے ہی عقلِ انسانی قاصر و تنگ دامن ہے۔ نام یہاں کے اور چیزیں وہاں کی۔ یہ ربِّ رحمان کی طرف سے مہمان نوازی ہوگی۔


سورۂ جاثیہ کا خلاصہ

دعوت الی القرآن اس سورت کی وجہِ امتیاز بیانِ تحدیدِ دعوت ہے۔ یعنی اس سورت میں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اگر تم عزت و عظمت اور رفعت و سربلندی چاہتے ہو تو پھر کتابُ اللہ کی حقیقی اتباع کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں ہر قسم کی عزتیں اور عظمتیں عطا فرمائیں گے۔

رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: ترکِ اتباع کا نتیجہ قرآنِ کریم جو کہ اُمُّ الکتب، ایک مکمل دستور، گزشتہ امتوں کے حالات و واقعات اور اُن پر تبصرہ کا ایک عجیب و غریب اور اچھوتا انسائیکلوپیڈیا ہے؛ ایک ایسا سمندر جس کی روانی میں کبھی فرق نہ آئے، جس کی تہہ میں ہزارہا گوہر آبدار اور دُررِ یتیم موجود ہوں، اور علم و حکمت کا ایک نہ ختم ہونے والا لامتناہی سلسلہ ہے—اگر اس کی اتباع ترک کر دی جائے تو پھر عزت و عظمت نام کی کوئی شے دنیا کے کسی قانون، کسی کتاب، کسی علم و فن اور کسی حکمت و موعظت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔

رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: اتباعِ شریعت کا حکم حضورِ اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا جا رہا ہے کہ چونکہ یہودِ بےبہبود نے دینِ موسوی کو ناقابلِ عمل بنا چھوڑا ہے، اس لئے ہم آپ کو ایک نئی شریعت اس قرآنِ کریم کی صورت میں دے رہے ہیں۔ آپ محض اس کی پیروی کیجئے اور کفار و معاندین کی خواہشات کو درخورِ اعتناء نہ سمجھیں۔

رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: ترکِ اتباع کا ایک اور خطرناک نتیجہ قرآنِ کریم کی اتباع نہ کرنے کا ایک اور خطرناک نتیجہ یہ نکلے گا کہ انسان کی فطرتِ سلیمہ مسخ ہو جائے گی، اور انسان اپنی خواہشات کی پیروی میں لگ کر انہی کو اپنا معبود و مطلوب بنائے گا، جس سے انسان اللہ تعالیٰ کا انکار اور زندگی اور موت کو زمانے کے ساتھ وابستہ کرنے لگ جاتا ہے۔ یہ بڑی سخت سزا کا مستحق ہے۔

رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: قرآن کریم کا مذاق اُڑانے والوں کا انجام قرآنِ کریم کی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہونا تو ایک جرم ہے ہی، لیکن جرم بالائے جرم اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور آیاتِ الٰہیہ کا مذاق اُڑایا جائے۔ ایک ادنیٰ عقل والا آدمی بھی یہ سوچ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص بندوں کے بنائے ہوئے قانون کا مذاق اُڑانے پر مستحقِ سزا ہو سکتا ہے تو کیا اللہ کا بنایا ہوا قانون بندوں کے بنائے ہوئے قانون سے بھی گیا گزرا ہے؟ اس کی اتنی بھی اہمیت و حیثیت نہیں جتنی چند لوگوں کے ذہنوں کی سوچ کی قدر و قیمت ہے؟ بہرحال! آج نہ سہی تو کل سہی، قیامت دور نہیں، انہیں ایسا سخت عذاب دیا جائے گا کہ یاد رکھیں گے، اور ہمارے پاس مکمل ریکارڈ محفوظ ہے جس کی بنا پر یہ لوگ کسی بات کی تکذیب بھی نہیں کر سکیں گے۔


سورۂ احقاف کا خلاصہ

دعوت الی القرآن اس سورت کی وجہِ امتیاز یہ ہے کہ دعوت الی القرآن کے بعد مہلت دینا سنتِ اللہ میں داخل ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ قرآن کی طرف دعوت دی جائے اور اس کے چند لمحوں یا کچھ ہی عرصے بعد اس دعوت پر لبیک کہنے والوں کو جزا اور انکار کرنے والوں کو سزا دے دی جائے۔ قانونِ الٰہی میں یہ بات شامل نہیں بلکہ عادتُ اللہ یہی ہے کہ مدعوین کو کچھ عرصے کے لئے مہلت دی جائے تاکہ وہ اچھی طرح اپنے انجام کے بارے میں غور و فکر کر سکیں۔

رکوع نمبر 1 کا خلاصہ: کلُّ شیءٍ مَرہونٌ بوقتِہ ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ کام اسی وقتِ مقررہ پر ہو سکتا ہے، نہ ایک لمحہ پہلے اور نہ ایک لمحہ بعد میں۔ اس لئے کفار کو باوجود یکہ وہ دعوتِ الی القرآن سے اعراض کر رہے ہیں اور اس میں طرح طرح کے حیلے بہانے تراش رہے ہیں، تباہ و برباد کرنے سے بچائے رکھنا ایک متعین مدت کے لئے ہے۔ جب وہ مدتِ متعیّنہ آجائے گی تو ان کی رسی کھینچ لی جائے گی۔

رکوع نمبر 2 کا خلاصہ: ہر ایک اپنے کئے کا بدلہ پائے گا جس شخص نے دنیا میں نیک اعمال کی زندگی بسر کی، تقویٰ و طہارت کی راہ اختیار کی، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، ان کی دعوت پر ایمان و اسلام سے مشرف ہوا—ایسے لوگ جنتی ہیں جن پر قیامت کے دن کسی قسم کا خوف و غم نہ ہوگا۔ اور جن لوگوں نے بُداملی کی زندگی گزاری، بدمعاشی کا راستہ اختیار کیا، والدین کو خواہ مخواہ برا بھلا کہا، ان کی دعوتِ ایمان کو "اساطیرُ الاوّلین" (پہلوں کے قصے کہانیاں) قرار دیا—تو ایسے لوگوں پر اللہ کا عذاب واجب ہوگا، البتہ مہلت دینا عادتُ اللہ میں شامل ہے۔

رکوع نمبر 3 کا خلاصہ: تذکیر بأیّامِ اللہ قومِ عاد کے واقعے کو بطورِ عبرت نقل کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی دعوت کو ٹھکرایا بذریعہ آسمان سے ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوا، وہ لوگ اسے بارش سمجھ کر اس کے نیچے اکٹھے ہو گئے۔ اچانک اس بادل نے آگ برسانا شروع کردی اور سب کے سب اسی وقت جل جھلس کر راکھ ہو گئے، ایک تنفس بھی زندہ نہ بچا۔ اگر کفار دعوتِ قرآن سے اعراض کرتے رہے تو ان کا بھی یہی حشر ہوسکتا ہے۔

رکوع نمبر 4 کا خلاصہ: عذابِ الٰہی سے بچنا ناممکن ہے جنات کے قبولِ ایمان و دعوتِ الی القرآن کو ذکر کر کے انسانوں کو سنایا جا رہا ہے کہ تم سے اچھے تو جنات ہی ہیں! تم اشرف المخلوقات ہوکر بھی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے؟ کیا احمقانہ حرکت ہے! خیر! کوئی بات نہیں—یاد رکھیں! کہ جس وقت ان پر عذابِ الٰہی آن وارد ہوگا تو پھر نوشتۂ خداوندی کو مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں۔ وہ وعدۂ عذاب جس کی یہ جلدی کیا کرتے تھے، آپہنچے گا، البتہ فی الحال انہیں سنتُ اللہ کے مطابق مہلت دی جاتی ہے۔

آج الحمدللہ سورة دخان سورۃ جاثیہ اور سورۃ احقاف کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة محمد (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم) شروع کرینگے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں