🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴40🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
غارِ ثور سے نکل کر مدینہ کی طرف — معجزات کا سفر
🐎 سراقہ بن مالک کا پیچھا اور معجزاتی نجات
نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی — آپ کے دعا فرماتے ہی حضرت سراقہؓ کی گھوڑی کے پاؤں زمین سے نکل آئے۔
گھوڑی کے پاؤں جونہی باہر آئے — سراقہؓ پھر اس پر سوار ہوئے — اور آپ ﷺ کی طرف بڑھے — آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
’’اے اللہ! ہمیں اس سے باز رکھ۔‘‘
اس دعا کے ساتھ ہی گھوڑی پیٹ تک زمین میں دھنس گئی — اب انہوں نے کہا:
’’اے محمد! میں قسم کھا کر کہتا ہوں — مجھے اس مصیبت سے نجات دلائیں — میں آپ کا ہمدرد ثابت ہوں گا۔‘‘
نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اے زمین! اسے چھوڑ دے۔‘‘
یہ فرمانا تھا کہ ان کی گھوڑی زمین سے نکل آئی — بعض تفاسیر میں لکھا ہے کہ سراقہؓ نے سات مرتبہ وعدہ خلافی کی — ہر بار ایسا ہی ہوا — بعض روایات میں ہے کہ ایسا تین بار ہوا۔
آخر حضرت سراقہؓ سمجھ گئے تھے کہ وہ آپ ﷺ تک نہیں پہنچ سکتے — چنانچہ انہوں نے کہا:
’’میں اب آپ کا پیچھا نہیں کروں گا — آپ میرے سامان میں سے کچھ لینا چاہیں تو لے لیں — سفر میں آپ کے کام آئے گا۔‘‘
حضور ﷺ نے ان سے کچھ لینے سے انکار کر دیا — اور فرمایا:
’’تم بس اپنے آپ کو روکے رکھو — اور کسی کو ہم تک نہ آنے دو۔‘‘
آپ ﷺ نے سراقہؓ سے یہ بھی فرمایا:
’’اے سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا — جب تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘
سراقہؓ یہ سن کر حیران ہوئے اور بولے:
’’آپ نے کیا فرمایا — کسریٰ بادشاہ کے کنگن مجھے پہنائے جائیں گے؟‘‘
ارشاد فرمایا:
’’ہاں! ایسا ہی ہوگا۔‘‘
👑 پیشین گوئی کا پورا ہونا
آنحضرت ﷺ کی یہ حیرت انگیز پیشین گوئی تھی — کیونکہ اس وقت ایسا ہونے کا قطعاً کوئی امکان دور دور تک نہیں تھا — لیکن پھر ایک وقت آیا کہ حضرت سراقہؓ مسلمان ہوئے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں — جب مسلمانوں کو فتوحات پر فتوحات ہوئیں — اور ایران کے بادشاہ کسریٰ کو شکست فاش ہوئی — تو اس مال غنیمت میں کسریٰ کے کنگن بھی تھے۔
یہ کنگن حضرت عمرؓ نے حضرت سراقہؓ کو پہنائے — اور اس وقت سراقہؓ کو یاد آیا — کہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت کے وقت ارشاد فرمایا تھا:
’’اے سراقہ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا — جب تمہیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘
🕌 سراقہؓ کا ایمان لانا
اپنے ایمان لانے کی تفصیل سراقہؓ یوں بیان کرتے ہیں:
’’جب رسول کریم ﷺ حنین اور طائف کے معرکوں سے فارغ ہو چکے — تو میں ان سے ملنے کے لیے روانہ ہوا — ان سے میری ملاقات جعرانہ کے مقام پر ہوئی — میں انصاری سواروں کے درمیان سے لشکر کے اس حصے کی طرف روانہ ہوا — جہاں آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھا۔ میں نے نزدیک پہنچ کر عرض کیا:
’اے اللہ کے رسول! میں سراقہ ہوں۔‘
ارشاد فرمایا: ’قریب آجاؤ۔‘
میں نزدیک چلا آیا — اور پھر ایمان لے آیا۔‘‘
حضرت عمر صدیقؓ نے کسریٰ کے کنگن مجھے پہناتے ہوئے فرمایا تھا:
’’تمام تعریفیں اس ذات باری تعالیٰ کے لیے ہیں — جس نے یہ چیزیں شاہ ایران کسریٰ بن ہرمز سے چھین لیں — جو یہ کہا کرتا تھا: ’میں انسانوں کا پروردگار ہوں۔‘‘‘
🛡️ سراقہؓ کا تحفظ اور قافلے کی راہنمائی
یہ سراقہؓ نبی اکرم ﷺ سے معافی ملنے کے بعد واپس پلٹے — اور راستے میں جو بھی آپ ﷺ کی تلاش میں آتا ہوا انہیں ملا — یہ اسے یہ کہہ کر لوٹاتے رہے:
’’میں اس طرف ہی سے ہو کر آ رہا ہوں — ادھر مجھے کوئی نہیں ملا — اور لوگ جانتے ہی ہیں — مجھے راستوں کی کتنی پہچان ہے۔‘‘
غرض اس روز یہ قافلہ تمام رات چلتا رہا — یہاں تک کہ چلتے چلتے اگلے دن دوپہر کا وقت ہو گیا۔ اب دور دور تک کوئی آتا جاتا نظر نہیں آ رہا تھا — ایسے میں سامنے ایک چٹان ابھری ہوئی نظر آئی — اس کا سایہ کافی دور تک پھیلا ہوا تھا۔
حضور اکرم ﷺ نے اس جگہ پر پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ فرمایا — حضرت ابوبکر صدیقؓ سواری سے اترے — اور اپنے ہاتھوں سے جگہ کو صاف کرنے لگے — تاکہ آپ ﷺ چٹان کے سائے میں سو سکیں۔
جگہ صاف کرنے کے بعد — حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی پوستین وہاں بچھا دی — اور عرض کیا:
’’اللہ کے رسول! یہاں سو جائیے — میں پہرہ دوں گا۔‘‘
حضور اکرم ﷺ سو گئے — ایسے میں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک چرواہے کو چٹان کی طرف آتے دیکھا — شاید وہ بھی سائے میں آرام کرنا چاہتا تھا۔
ابوبکر صدیقؓ فوراً اس طرف مڑے — اور اس سے بولے:
’’تم کون ہو؟‘‘
اس نے بتایا:
’’میں مکہ کا رہنے والا ایک چرواہا ہوں۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیقؓ بولے:
’’کیا تمہاری بکریوں میں کوئی دودھ والی بکری ہے؟‘‘
جواب میں اس نے کہا: ’’ہاں ہے۔‘‘
پھر وہ ایک بکری سامنے لایا — اپنے ایک برتن میں دودھ دوہا — اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو دیا۔
وہ دودھ کا برتن اٹھائے — آپ ﷺ کے پاس آئے — جو کہ اس وقت سو رہے تھے — انہوں نے آپ ﷺ کو جگانا مناسب نہ سمجھا — دودھ کا برتن لیے اس وقت تک کھڑے رہے — جب تک کہ آپ ﷺ جاگ نہیں گئے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے دودھ میں پانی کی دھار ڈالی — تاکہ وہ ٹھنڈا ہو جائے — پھر خدمت میں پیش کیا — اور عرض کیا:
’’یہ دودھ پی لیجیے۔‘‘
آپ ﷺ نے دودھ نوش فرمایا — اور پوچھا:
’’کیا روانگی کا وقت ہو گیا؟‘‘
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا:
’’جی ہاں! ہو گیا ہے۔‘‘
🏕️ ام معبدؓ کے خیمے کا واقعہ
اب یہ قافلہ پھر روانہ ہوا — ابھی کچھ دور ہی گئے ہوں گے کہ ایک خیمہ نظر آیا — خیمے کے باہر ایک عورت بیٹھی تھی — یہ ام معبدؓ تھیں — جو اس وقت تک اسلام کی دعوت سے محروم تھیں — ان کا نام عاتکہ تھا — یہ ایک بہادر اور شریف خاتون تھیں۔
انہوں نے بھی آنے والوں کو دیکھ لیا — اس وقت ام معبدؓ کو یہ معلوم نہیں تھا — کہ یہ چھوٹا سا قافلہ کن ہستیوں کا ہے۔
نزدیک آنے پر — حضور ﷺ کو ام معبدؓ کے پاس ایک بکری کھڑی نظر آئی — وہ بہت ہی کمزور اور دبلی پتلی سی بکری تھی۔
آپ ﷺ نے ام معبدؓ سے دریافت کیا:
’’کیا اس کے تھنوں میں دودھ ہے؟‘‘
ام معبدؓ نے بولیں :
’’اس کمزور اور مریل بکری کے تھنوں میں دودھ کہاں سے آئے گا۔‘‘
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’کیا تم مجھے اس کو دوہنے کی اجازت دو گی؟‘‘
اس پر ام معبدؓ بولیں :
’’لیکن یہ تو ابھی ویسے بھی دودھ دینے والی نہیں ہوئی — آپ خود سوچیے — یہ دودھ کس طرح دے سکتی ہے — میری طرف سے اجازت ہے — اگر اس سے آپ دودھ نکال سکتے ہیں — تو نکال لیجیے۔‘‘
🥛 معجزاتی دودھ اور ام معبدؓ کی حیرت
حضرت ابوبکر صدیقؓ اس بکری کو حضور اکرم ﷺ کے پاس لے آئے — حضور ﷺ نے اس کی کمر اور تھنوں پر ہاتھ پھیرا — اور دعا کی:
’’اے اللہ! اس بکری میں ہمارے لیے برکت عطا فرما۔‘‘
جونہی آپ ﷺ نے یہ دعا مانگی — بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے — اور ان سے دودھ ٹپکنے لگا۔
یہ نظارہ دیکھ کر ام معبدؓ حیرت زدہ رہ گئیں…
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں