🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴39🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴39🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

غارِ ثور میں پناہ اور ہجرت کا تاریخی سفر


😇 حضرت علیؓ کی قربانی اور رسول کی رخصت

ادھر حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا:

’’تم میرے بستر پر سو جاؤ اور میری یمنی چادر اوڑھ لو۔‘‘

پھر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
’’تمہارے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آئے گا۔‘‘

مشرکوں کے جس گروہ نے آپ ﷺ کے گھر کو گھیر رکھا تھا — ان میں حکیم بن ابوالعاص، عقبہ بن ابی معیط، نصر بن حارث، اسید بن خلف، زمعہ ابن اسود اور ابوجہل بھی شامل تھے۔

ابوجہل اس وقت دبی آواز میں اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا:

’’محمد ﷺ کہتا ہے: اگر تم اس کے دین کو قبول کر لو گے — تو تمہیں عرب اور عجم کی بادشاہت مل جائے گی — اور مرنے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی — اور وہاں تمہارے لیے ایسی جنتیں ہوں گی، ایسے باغات ہوں گے جیسے اردن کے باغات ہیں — لیکن اگر تم میری پیروی نہیں کرو گے — تو تم سب تباہ ہو جاؤ گے — مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے — تو تمہارے لیے وہاں جہنم کی آگ تیار ہوگی — اس میں تمہیں جلایا جائے گا۔‘‘


🌌 سورہ یٰسین کی تلاوت اور معجزہ

نبی اکرم ﷺ نے اس کے یہ الفاظ سُن لیے — آپ یہ کہتے ہوئے گھر سے نکلے:
’’ہاں! میں یقیناً یہ بات کہتا ہوں۔‘‘

اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنی مٹھی میں کچھ مٹی اٹھائی اور یہ آیت تلاوت فرمائی:

’’یٰسین۔ قسم ہے حکمت والے قرآن کی — بے شک آپ پیغمبروں کے گروہ میں سے ہیں — سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ قرآن زبردست اللہ مہربان کی طرف سے نازل کیا گیا ہے — تاکہ آپ (پہلے تو) ایسے لوگوں کو ڈرائیں — جن کے باپ دادا نہیں ڈرائے گئے — سو اسی سے یہ بے خبر ہیں — ان میں سے اکثر لوگوں پر بات ثابت ہو چکی ہے — سو یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں — پھر وہ ٹھوڑیوں تک اڑ گئے ہیں — جس سے ان کے سر اوپر کو اٹھ گئے ہیں — اور ہم نے ایک آڑ ان کے سامنے کر دی ہے — اور ایک آڑ ان کے پیچھے کر دی ہے — جس سے ہم نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا ہے — سو وہ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘
(سورۃ یٰسین: آیات 1 تا 9)

ان آیات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے کفار کو وقتی طور پر اندھا کر دیا — وہ آنحضرت ﷺ کو اپنے سامنے سے جاتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔

حضور ﷺ نے جو مٹی پھینکی تھی — وہ ان سب کے سروں پر گری — کوئی ایک بھی ایسا نہ بچا — جس پر مٹی نہ گری ہو۔


😳 مشرکین کی حیرت اور حضرت علیؓ کی گرفتاری

جب قریش کو پتا چلا — کہ حضور ﷺ ان کے سروں پر خاک ڈال کر جا چکے ہیں — تو وہ سب گھر کے اندر داخل ہوئے — آپ ﷺ کے بستر پر حضرت علیؓ چادر اوڑھے سو رہے تھے۔

یہ دیکھ کر وہ بولے:
’’خدا کی قسم! یہ تو اپنی چادر اوڑھے سو رہے ہیں۔‘‘

لیکن جب چادر الٹی — تو بستر پر حضرت علیؓ نظر آئے — مشرکین حیرت زدہ رہ گئے — انہوں نے حضرت علیؓ سے پوچھا:
’’تمہارے صاحب کہاں ہیں؟‘‘

مگر انہوں نے کچھ نہ بتایا — تو وہ حضرت علیؓ کو مارتے ہوئے باہر لے آئے — اور مسجد حرام تک لائے — کچھ دیر تک انہوں نے انہیں روکے رکھا — پھر چھوڑ دیا۔


🤝 حضرت ابوبکرؓ کے گھر پہنچنا

اب حضور ﷺ کو ہجرت کے سفر پر روانہ ہونا تھا — انہوں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا:
’’میرے ساتھ دوسرا ہجرت کرنے والا کون ہوگا؟‘‘

جواب میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
’’ابوبکر صدیق ہوں گے۔‘‘

حضور ﷺ اس وقت تک چادر اوڑھے ہوئے تھے — اسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر پہنچے — دروازے پر دستک دی — تو حضرت اسماءؓ نے دروازہ کھولا — اور حضور ﷺ کو دیکھ کر اپنے والد حضرت ابوبکرؓ کو بتایا — کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہیں — اور چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔

یہ سنتے ہی ابوبکر صدیقؓ بول اٹھے:
’’اللہ کی قسم! اس وقت آپ ﷺ یقیناً کسی خاص کام سے تشریف لائے ہیں۔‘‘

پھر انہوں نے آپ ﷺ کو اپنی چارپائی پر بٹھایا — آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’دوسرے لوگوں کو یہاں سے اٹھا دو۔‘‘

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حیران ہو کر عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول! یہ تو سب میرے گھر والے ہیں۔‘‘

اس پر آپ ﷺ نے فرمایا:
’’مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔‘‘

ابوبکر صدیقؓ فوراً بول اٹھے:
’’میرے ماں باپ آپ پر قربان! کیا میں آپ کے ساتھ جاؤں گا؟‘‘

جواب میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ہاں! تم میرے ساتھ جاؤ گے۔‘‘

یہ سنتے ہی مارے خوشی کے حضرت ابوبکر صدیقؓ رونے لگے — حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں:
’’میں نے اپنے والد کو روتے دیکھا تو حیران ہوئی — اس لیے کہ میں اس وقت تک نہیں جانتی تھی کہ انسان خوشی کی وجہ سے بھی رو سکتا ہے۔‘‘


🐫 اونٹنی قصویٰ کا تحفہ

پھر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان — آپ ان دونوں اونٹنیوں میں سے ایک لے لیں — میں نے انہیں اسی سفر کے لیے تیار کیا ہے۔‘‘

اس پر حضور ﷺ نے فرمایا:
’’میں یہ قیمت دے کر لے سکتا ہوں۔‘‘

یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیقؓ رونے لگے اور عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان — میں اور میرا سب مال تو آپ ہی کا ہے۔‘‘

حضور ﷺ نے ایک اونٹنی لے لی — بعض روایات میں آتا ہے — کہ حضور ﷺ نے اونٹنی کی قیمت دی تھی — اس اونٹنی کا نام قصویٰ تھا — یہ آپ ﷺ کی وفات تک آپ کے پاس ہی رہی — حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت میں اس کی موت واقع ہوئی۔


🧵 حضرت اسماءؓ کا تاریخی قربانی کا عمل

سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں — کہ ہم نے ان دونوں اونٹنیوں کو جلدی جلدی سفر کے لیے تیار کیا — چمڑے کی ایک تھیلی میں کھانے پینے کا سامان رکھ دیا — حضرت اسماءؓ نے اپنی چادر پھاڑ کر — اس کے ایک حصے سے ناشتے کی تھیلی باندھ دی — دوسرے حصے سے انہوں نے پانی کے برتن کا منہ بند کر دیا۔

اس پر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ تمہاری اس اوڑھنی کے بدلے جنت میں دو اوڑھنیاں دے گا۔‘‘

اوڑھنی کو پھاڑ کر دو کرنے کے عمل کی بنیاد پر — حضرت اسماءؓ کو ذات النطاقین کا لقب ملا — یعنی دو اوڑھنی والی۔

یاد رہے کہ نطاق اس دوپٹے کو کہا جاتا ہے — جسے عرب کی عورتیں کام کے دوران کمر کے گرد باندھ لیتی تھیں۔


🌄 غارِ ثور کی طرف روانگی

پھر رات کے وقت — حضور ﷺ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ روانہ ہوئے — اور پہاڑ ثور کے پاس پہنچے۔

سفر کے دوران — کبھی حضرت ابوبکر صدیقؓ حضور ﷺ کے آگے چلنے لگتے — تو کبھی پیچھے — آنحضرت ﷺ نے دریافت فرمایا:
’’ابوبکر! ایسا کیوں کر رہے ہو؟‘‘

جواب میں انہوں نے عرض کیا:
’’اللہ کے رسول! میں اس خیال سے پریشان ہوں — کہ کہیں راستے میں کوئی آپ کی گھات میں نہ بیٹھا ہو۔‘‘


🕳️ غارِ ثور میں داخلہ اور ابوبکرؓ کی فکر

اس پہاڑ میں ایک غار تھا — دونوں غار کے دھانے تک پہنچے — تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا:

’’قسم اس ذات کی — جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا — آپ ذرا ٹھریے! پہلے غار میں داخل ہوں گا — اگر غار میں کوئی موذی کیڑا ہوا — تو کہیں وہ آپ کو نقصان نہ پہنچا دے…‘‘

چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ غار میں داخل ہوئے — انہوں نے غار کو ہاتھوں سے ٹٹول کر دیکھنا شروع کیا — جہاں کوئی سوراخ ملتا — اپنی چادر سے ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس کو بند کر دیتے


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں