🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴37🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
بیعت عقبہ ثانیہ اور ہجرتِ مدینہ کا آغاز
🕋 عقبہ کی دوسری ملاقات
اگلے سال قبیلہ خزرج کے دس اور قبیلہ اوس کے دو آدمی مکہ آئے — ان میں سے پانچ وہ تھے جو پچھلے سال عقبہ میں آپ ﷺ سے مل کر گئے تھے۔
ان لوگوں سے بھی آپ ﷺ نے بیعت لی — آپ ﷺ نے ان کے سامنے سورۃ النساء کی آیات تلاوت فرمائیں۔
بیعت کے بعد جب یہ لوگ واپس مدینہ منورہ جانے لگے — تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن ام مکتومؓ کو بھیجا۔
آپ ﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو بھی ان کے ساتھ بھیجا — تاکہ وہ نئے مسلمانوں کو دین سکھائیں، قرآن کی تعلیم دیں — انہیں قاری کہا جاتا تھا۔ یہ مسلمانوں میں سب سے پہلے آدمی ہیں جنہیں قاری کہا گیا۔
🕌 مدینہ میں اسلام کی تبلیغ
حضرت مصعب بن عمیرؓ نے وہاں کے مسلمانوں کو نماز پڑھانا شروع کی — سب سے پہلا جمعہ بھی انہوں نے ہی پڑھایا۔
جمعہ کی نماز اگرچہ مکہ میں فرض ہو چکی تھی — لیکن وہاں مشرکین کی وجہ سے مسلمان جمعہ کی نماز ادا نہیں کر سکے۔ سب سے پہلا جمعہ پڑھنے والوں کی تعداد چالیس تھی۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ نے مدینہ منورہ میں دین کی تبلیغ شروع کی — تو حضرت سعد بن معاذ اور ان کے چچا زاد بھائی حضرت اسید بن حضیرؓ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔
ان کے اسلام لانے کے بعد مدینہ میں اسلام اور تیزی سے پھیلنے لگا۔
🤲 بیعت عقبہ ثانیہ — تاریخی رات
اس کے بعد حضرت مصعب بن عمیرؓ حج کے دنوں میں واپس مکہ پہنچے — مدینہ منورہ میں اسلام کی کامیابیوں کی خبر سن کر آپ ﷺ بہت خوش ہوئے۔
مدینہ منورہ میں جو لوگ اسلام لا چکے تھے — ان میں سے جو حج کے لیے آئے تھے — انہوں نے فارغ ہونے کے بعد منی میں رات کے وقت آپ ﷺ سے ملاقات کی — جگہ اور وقت پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا۔
ان لوگوں کے ساتھ چونکہ مدینہ سے مشرک لوگ بھی آئے ہوئے تھے — اور ان سے اس ملاقات کو پوشیدہ رکھنا تھا — اس لیے یہ ملاقات رات کے وقت ہوئی۔
یہ حضرات کل 73 مرد اور 2 عورتیں تھیں — ملاقات کی جگہ عقبہ کی گھاٹی تھی — وہاں ایک ایک دو دو کر کے جمع ہو گئے — اس مجمع میں 11 آدمی قبیلہ اوس کے تھے۔
پھر آپ ﷺ تشریف لائے — آپ ﷺ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ بھی ساتھ تھے — ان کے علاوہ آپ ﷺ کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔
حضرت عباسؓ بھی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے — اس وقت آپ ﷺ گویا اپنے چچا کے ساتھ آئے تھے — تاکہ اس معاملے کو خود دیکھیں۔
ایک روایت کے مطابق اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ بھی ساتھ آئے تھے۔
🗣️ حضرت عباسؓ کی تقریر اور انصار کا عہد
سب سے پہلے حضرت عباسؓ نے ان کے سامنے تقریر کی — انہوں نے کہا:
’’تم لوگ جو عہد و پیمان ان (رسول اللہ ﷺ) سے کرو — اس کو ہر حال میں پورا کرنا — اگر پورا نہ کر سکو — تو بہتر ہے کہ کوئی عہد و پیمان نہ کرو۔‘‘
اس پر ان حضرات نے وفا داری نبھانے کے وعدے کیے — تب نبی اکرم ﷺ نے ان سے ارشاد فرمایا:
’’تم ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ… اپنی ذات کی حد تک یہ کہتا ہوں کہ میری حمایت کرو اور میری حفاظت کرو۔‘‘
اس موقع پر ایک انصاری بولے:
’’اگر ہم ایسا کریں — تو ہمیں کیا ملے گا؟‘‘
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’اس کے بدلے تمہیں جنت ملے گی۔‘‘
اب وہ سب بول اٹھے:
’’یہ نفع کا سودا ہے — ہم اسے ختم نہیں کریں گے۔‘‘
اب ان سب نے نبی ﷺ سے بیعت کی — حضور ﷺ کی حفاظت کا وعدہ کیا۔
حضرت براء بن معرورؓ نے کہا:
’’ہم ہر حال میں آپ ﷺ کا ساتھ دیں گے — آپ ﷺ کی حفاظت کریں گے۔‘‘
🛡️ انصار کا مضبوط عہد
حضرت براء بن معرورؓ یہ الفاظ کہہ رہے تھے — کہ ابو الہیثم بن التیہانؓ بول اٹھے:
’’چاہے ہم پیسے پیسے کو محتاج ہو جائیں — اور چاہے ہمیں قتل کر دیا جائے — ہم ہر قیمت پر آپ ﷺ کا ساتھ دیں گے۔‘‘
اس وقت حضرت عباسؓ بولے:
’’ذرا آہستہ آواز میں بات کرو… کہیں مشرک آواز نہ سن لیں۔‘‘
اس موقع پر ابو الہیثمؓ نے عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے اور یہودیوں کے درمیان کچھ معاہدے ہیں — اب ہم ان کو توڑ رہے ہیں — ایسا تو نہیں ہو گا کہ آپ ﷺ ہمیں چھوڑ کر مکہ آ جائیں۔‘‘
یہ سن کر آپ ﷺ مسکرائے اور فرمایا:
’’نہیں! بلکہ میرا خون اور تمہارا خون ایک ہے — جس سے تم جنگ کرو گے — اس سے میں جنگ کروں گا — جسے تم پناہ دو گے — اسے میں پناہ دوں گا۔‘‘
👑 بارہ نقیب — اپنی قوم کے نمائندے
پھر آپ ﷺ نے ان سے بارہ آدمی الگ کیے — یہ نو خزرج میں سے اور تین اوس میں سے تھے — آپ نے ان سے فرمایا:
’’تم میرے جاں نثار ہو — میرے نقیب ہو۔‘‘
ان بارہ حضرات میں یہ شامل تھے:
سعد بن عبادہ
اسعد بن رواحہ
براء بن معرور
ابوالہیثم بن التیہان
اسید بن حضیر
عبداللہ بن عمرو بن حزام
عبادہ بن صامت
رافع بن مالک رضی اللہ عنہم
ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کا نمائندہ تھا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جاں نثاروں سے فرمایا:
’’تم لوگ اپنی اپنی قوم کی طرف سے اس طرح میرے کفیل ہو — جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ حواری ان کے کفیل تھے — اور میں اپنی قوم یعنی مہاجرین کی طرف سے کفیل اور ذمے دار ہوں۔‘‘
⚔️ بیعت عقبہ ثانیہ — تاریخ ساز قدم
اس بیعت کو بیعتِ عقبہ ثانیہ کہا جاتا ہے — یہ بہت اہم تھی — اس بیعت کے ہونے پر شیطان نے بہت واویلا کیا، چیخا اور چلایا — کیونکہ یہ اسلام کی ترقی کی بنیاد تھی۔
جب یہ مسلمان مدینہ پہنچے — تو انہوں نے کھل کر اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا — اعلانیہ نمازیں پڑھنے لگے۔
🕊️ ہجرتِ مدینہ کا حکم
مدینہ منورہ میں حالات سازگار دیکھ کر — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا — کیونکہ قریش کو جب یہ پتا چلا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگجو قوم کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا ہے — اور ان کے ہاں ٹھکانہ بنالیا ہے — تو انہوں نے مسلمانوں کا مکہ میں جینا اور مشکل کر دیا۔
تکالیف دینے کا ایسا سلسلہ شروع کیا — کہ اب تک ایسا نہیں کیا تھا — روز بروز صحابہ کی پریشانیاں اور مصیبتیں بڑھتی چلی گئیں — کچھ صحابہ کو دین سے پھیرنے کے لیے طرح طرح کے طریقے آزمائے گئے — طرح طرح کے عذاب دیے گئے۔
آخر صحابہ نے اپنی مصیبتوں کی فریاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی — اور مکہ سے ہجرت کر جانے کی اجازت مانگی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چند دن خاموش رہے — آخر ایک دن فرمایا:
’’مجھے تمہاری ہجرت گاہ کی خبر دی گئی ہے — وہ یثرب ہے (یعنی مدینہ)۔‘‘
اور اس کے بعد حضور اکرم ﷺ نے انہیں ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔
🤝 مؤاخاتِ مدینہ — بھائی چارے کا رشتہ
اس اجازت کے بعد صحابہ کرام ایک ایک دو دو کر کے چھپ چھپا کر جانے لگے۔
مدینہ کی طرف روانہ ہونے سے پہلے — نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ فرمایا — انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا:
| صحابی | بھائی بنائے گئے |
|---|---|
| حضرت ابوبکرؓ | حضرت عمرؓ |
| حضرت حمزہؓ | حضرت زید بن حارثہؓ |
| حضرت عثمانؓ | حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ |
| حضرت عبادہ بن صامتؓ | حضرت بلالؓ |
| حضرت مصعب بن عمیرؓ | حضرت سعد ابن ابی وقاصؓ |
| حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ | حضرت سالمؓ (ابو حذیفہؓ کے غلام) |
| حضرت سعید بن زیدؓ | حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ |
| حضرت علیؓ | آپ ﷺ نے خود اپنا بھائی بنایا |
🚶♂️ پہلے مہاجر — حضرت ابوسلمہؓ
مسلمانوں میں سے جن صحابہ نے سب سے پہلے مدینہ کی طرف ہجرت کی — وہ رسول اکرم ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی حضرت ابوسلمہ عبداللہ بن عبداللہ مخزومیؓ ہیں۔
انہوں نے سب سے پہلے تنہا جانے کا ارادہ فرمایا — جب یہ حبشہ سے واپس مکہ آئے تھے — تو انہیں سخت تکالیف پہنچائی گئی تھیں — آخر انہوں نے واپس حبشہ جانے کا ارادہ کر لیا تھا — مگر پھر انہیں مدینہ کے لوگوں کے مسلمان ہونے کا پتا چلا — تو یہ رک گئے — اور ہجرت کی اجازت ملنے پر مدینہ روانہ ہوئے۔
مکہ سے روانہ ہوتے وقت — یہ اپنے اونٹ پر سوار ہوئے — اور اپنی بیوی ام سلمہؓ اور اپنے دودھ پیتے بچے کو بھی ساتھ سوار کر لیا۔
جب ان کے سسرال والوں کو پتا چلا — تو وہ انہیں روکنے کے لیے دوڑے — اور راستے میں جا پکڑا — ان کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے…
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں