✨ آج کی بات ✨
💬 "دنیا کا سب سے بڑا روگ — 'کیا کہیں گے لوگ؟!'"
یہ جملہ صرف ایک محاورہ نہیں — یہ ایک نفسیاتی غلامی، ایک روحانی بیماری، اور ایمان کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لاکھوں لوگ اپنی زندگیاں لوگوں کی رائے کے خوف میں گزار دیتے ہیں:
— وہ نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
— وہ حجاب اتار دیتی ہیں کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
— وہ سچ بولنے سے ڈر جاتے ہیں کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
— وہ نماز پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
— وہ حجاب اتار دیتی ہیں کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
— وہ سچ بولنے سے ڈر جاتے ہیں کیونکہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
لیکن اسلام کہتا ہے: جب تک آپ "لوگوں کی رائے" کو اللہ کی رضا پر ترجیح دیتے رہیں گے، آپ کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ 🌿
📖 اسلامی تناظر: اللہ کی رضا vs لوگوں کی رائے
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ﴾
(سورۃ البینۃ: 5)
"انہیں صرف یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت خلوص دل سے کریں۔"
اور ایک اور جگہ:
﴿فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ﴾
(سورۃ المائدہ: 44)
"پس تم لوگوں سے نہ ڈرو، میرا ہی ڈرو!"
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ مومن کی سب سے بڑی فکر "اللہ کیا کہے گا؟" ہونی چاہیے — نہ "لوگ کیا کہیں گے؟"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"مَنْ أَرْضَى النَّاسَ بِسَخَطِ اللَّهِ، وَكَلَهُ اللَّهُ إِلَى النَّاسِ"
(ترمذی: 2407)
"جو شخص اللہ کے غضب کو نظرانداز کر کے لوگوں کو راضی کرے، اللہ اُسے لوگوں کے سپرد کر دے گا."
یعنی لوگوں کی رضامندی کا خواب دیکھنا، ایمان کی ہتھیلی میں کھیلنے کے برابر ہے۔
📜 تاریخ کی گواہی: نوح علیہ السلام کی قوم
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے انہیں کہا:
﴿مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ﴾
(سورۃ ہود: 27)
"ہم تمہیں اپنے جیسا ہی انسان دیکھتے ہیں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیچھے صرف ہمارے نچلے طبقے کے لوگ آتے ہیں!"
یعنی "لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف انہیں ہدایت سے روک رہا تھا۔
لیکن حضرت نوحؑ نے لوگوں کی رائے کو اللہ کی رضا پر ترجیح نہیں دی —
اور نتیجہ؟
اللہ نے انہیں نجات دی، اور ان کی قوم کو تباہ کر دیا۔
لیکن حضرت نوحؑ نے لوگوں کی رائے کو اللہ کی رضا پر ترجیح نہیں دی —
اور نتیجہ؟
اللہ نے انہیں نجات دی، اور ان کی قوم کو تباہ کر دیا۔
💭 نفسیات اور جدید دور: "Social Approval" کا جال
جدید نفسیات کہتی ہے کہ "social approval seeking" (لوگوں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش) انسان کو:
- اصلی خود سے دور کر دیتی ہے،
- ذاتی اصولوں کو توڑنے پر مجبور کرتی ہے،
- اور مستقل ذہنی دباؤ میں ڈالتی ہے۔
سوشل میڈیا نے اس بیماری کو وباء بنا دیا ہے:
— ہر تصویر، ہر پوسٹ، ہر رائے — سب "لوگ کیا سوچیں گے؟" کے خوف میں بنائی جاتی ہے۔
لیکن جب آپ لوگوں کی رائے کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں،
تو آپ اللہ کی رضا کو کھو دیتے ہیں۔
— ہر تصویر، ہر پوسٹ، ہر رائے — سب "لوگ کیا سوچیں گے؟" کے خوف میں بنائی جاتی ہے۔
لیکن جب آپ لوگوں کی رائے کو اپنا مقصد بنا لیتے ہیں،
تو آپ اللہ کی رضا کو کھو دیتے ہیں۔
💡 عملی رہنمائی: "لوگ کیا کہیں گے؟" سے کیسے نکلیں؟
- سوال بدلیں:
"لوگ کیا کہیں گے؟" کی بجائے پوچھیں:
"اللہ کیا کہے گا؟" - حق پر قائم رہیں:
اگر آپ کا کام درست ہے، تو چاہے ساری دنیا آپ کے خلاف ہو جائے — آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ - دعا کریں:"اللّٰهم ارْضَ عَنِّي، وَاجْعَلْ رِضَاكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رِضَا نَفْسِي وَمِنْ رِضَا كُلِّ مَخْلُوقٍ."
"اے اللہ! مجھ سے راضی ہو جا، اور تیری رضا مجھے میری خود کی رضا اور ہر مخلوق کی رضا سے محبوب تر کر دے۔" - یاد رکھیں:
نبیوں کو بھی کفر، جھوٹ، اور دیوانگی کہا گیا —
پھر آپ کو کیوں نہیں کہا جائے گا؟
🌅 خاتمہ: جو اللہ سے ڈرتا ہے، لوگوں سے نہیں ڈرتا
🌟 "دنیا کا سب سے بڑا روگ یہ نہیں کہ لوگ کچھ کہیں —
بلکہ یہ ہے کہ آپ ان کی باتوں سے ڈر جائیں۔
جو شخص اللہ کی رضا کو اپنا مقصد بنا لے،
اس کے لیے لوگوں کی رائے ہوا کے جھونکے جیسی ہو جاتی ہے!"
🤲 "اے اللہ! ہمیں وہ ہمت عطا فرما جو ہمیں لوگوں کی رائے سے آزاد کر دے،
ہمارے دلوں کو صرف تیری رضا کی طلب گار بنا دے،
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
دنیا کا سب سے بڑا روگ — 'کیا کہیں گے لوگ؟!' ہے!"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں