🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴34🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
معراج النبی ﷺ — آسمانوں کا سفر اور جنت و دوزخ کے مشاہدات
📖 گذشتہ سے پیوستہ
ان کا یہ حال دیکھ کر حضرت طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ پھر حضور نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور آپ سے عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول! قومِ دوس مجھ پر غالب آگئی، اس لیے آپ ان کے لیے دعا فرمائیے۔‘‘
آپ ﷺ نے دعا فرمائی:
’’اے اللہ! قوم دوس کو ہدایت عطا فرما، انہیں دین کی طرف لے آ۔‘‘
حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ پھر اپنے لوگوں میں گئے — انہوں نے پھر دین اسلام کی تبلیغ شروع کی… وہ مسلسل انہیں تبلیغ کرتے رہے، یہاں تک کہ حضور نبی کریم ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے — آخر وہ لوگ ایمان لے آئے۔
حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ انہیں ساتھ لے کر مدینہ آئے — اس وقت تک غزوہ بدر، غزوہ احد، اور غزوہ خندق ہو چکے تھے اور نبی کریم ﷺ خیبر کے مقام پر موجود تھے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسیؓ کے ساتھ ستر، اسی گھرانوں کے لوگ تھے — ان میں حضرت ابو ہریرہؓ بھی تھے۔
چونکہ یہ لوگ وہاں غزوہ خیبر کے وقت پہنچے تھے، اس لیے نبی کریم ﷺ نے تمام مسلمانوں کے ساتھ ان کا بھی حصہ نکالا — اگرچہ وہ جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
🌌 معراج النبی ﷺ — اللہ کا عظیم انعام
طائف کے سفر کے بعد معراج کا واقعہ پیش آیا — جو حضور نبی کریم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام اور نبوت کا بہت بڑا معجزہ ہے۔
یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ حضور ﷺ مکہ معظمہ میں حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر رات کے آرام فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حضرت میکائیل علیہ السلام کو آپ کے پاس بھیجا — وہ آپ کو مسجد الحرام لے گئے، پھر وہاں سے براق پر سوار کر کے مسجد اقصیٰ لے گئے، جہاں تمام انبیاء علیہم السلام نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔
اس کے بعد آپ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور آپ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔
🚀 معراج کے راستے میں تین اہم مقامات
حضور نبی کریم ﷺ بیت المقدس پہنچنے سے پہلے حضرت جبرئیل کے ساتھ چلے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک سرسبز علاقے سے گزر ہوا۔
📍 پہلا مقام: مدینہ منورہ
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا:
’’یہاں اتر کر دو رکعت نماز پڑھ لیجیے۔‘‘
آپ نے براق سے اتر کر دو رکعتیں ادا کیں۔
جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا: ’’آپ کو معلوم ہے یہ کونسا مقام ہے؟‘‘
آپ نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘
تب جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
’’یہ آپ نے طیبہ یعنی مدینہ منورہ میں نماز پڑھی ہے — اور یہی آپ کی ہجرت گاہ ہے۔‘‘
(یعنی مکہ سے ہجرت کر کے آپ یہیں آنا ہے)
📍 دوسرا مقام: مدین (شعیب علیہ السلام کی بستی)
براق پھر روانہ ہوا — اس کا ہر قدم جہاں تک نظر جاتی تھی وہاں پڑتا تھا۔ ایک اور مقام پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ’’آپ یہاں اتر کر نماز پڑھیے۔‘‘
آپ نے وہاں بھی دو رکعت ادا کی — انہوں نے بتایا: ’’آپ نے مدین میں نماز پڑھی ہے۔‘‘
اس بستی کا نام مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین کے نام پر رکھا گیا تھا۔ انہوں نے اسی مقام پر قیام کیا تھا — اس کے بعد وہاں آبادی ہو گئی تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام اسی بستی میں مبعوث ہوئے تھے۔
📍 تیسرا مقام: بیت اللحم
اس کے بعد پھر آپ اسی براق پر سوار ہوئے — ایک مقام پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے کہا: ’’اب یہاں اتر کر نماز پڑھیے۔‘‘
آپ دو رکعت نماز ادا کی — جبرئیل علیہ السلام نے بتایا: ’’یہ بیت اللحم ہے۔‘‘
بیت اللحم بیت المقدس کے پاس ایک بستی ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی۔
🛡️ مجاہدین کا مقام اور دنیا کی حقیقت
اسی سفر میں آپ نے اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کا حال دیکھا — یعنی آپ کو آخرت کی مثالی شکل کے ذریعے مجاہدین کے حالات دکھائے گئے۔
حضرت جبرئیل علیہ السلام نے بتایا:
’’یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ ہیں — اللہ نے ان کی ہر نیکی کا ثواب سات سو گنا کر دیے ہیں۔‘‘
اسی طرح آنحضرت ﷺ کے سامنے دنیا لائی گئی — دنیا ایک حسین و جمیل عورت کی صورت میں دکھائی گئی۔ اس عورت نے آپ سے کہا:
’’اے محمد! میری طرف دیکھیے — میں آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘
آپ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا:
’’یہ کون ہے؟‘‘
انہوں نے بتایا:
’’یہ دنیا ہے — اگر آپ اس طرف توجہ دیتے تو آپ کی امت آخرت کے مقابلے میں دنیا کو اختیار کر لیتی۔‘‘
اس کے بعد آپ نے راستے میں ایک بڑھیا کو دیکھا — آپ نے پوچھا:
’’یہ کون ہے؟‘‘
جبرئیل علیہ السلام نے بتایا:
’’یہ دنیا ہی ہے — دنیا کی عمر کا اتنا حصہ ہی باقی رہ گیا ہے جتنا کہ اس بڑھیا کا ہو سکتا ہے۔‘‘
🔥 گناہگاروں کے انجام کے مشاہدات
اس کے بعد آپ نے مختلف گناہگاروں کے انجام دیکھے:
1. امانت میں خیانت کرنے والے
اپنے بوجھ میں اضافہ کیے جا رہے تھے اور بوجھ کو اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔
2. فرض نمازوں کو چھوڑنے والے
ان کے سر کو کچلا جا رہا تھا — ان کے سر ریزہ ریزہ ہو رہے تھے اور پھر اصل حالت میں آ جاتے تھے — کچلنے کا عمل پھر شروع ہو جاتا تھا — غرض انہیں ذرہ بھر مہلت نہیں دی جا رہی تھی۔
3. زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے
ان کے ستر پر آگے اور پیچھے پھٹے ہوئے چیتھڑے لٹکے ہوئے تھے — وہ اونٹوں اور بکریوں کی طرح چر رہے تھے… اور زقوم درخت کے کڑوے پتے اور کانٹے کھا رہے تھے۔
زقوم درخت کے بارے میں آتا ہے کہ اس قدر کڑوا اور زہریلا ہے کہ اس کی کڑواہٹ کا مقابلہ دنیا کا کوئی درخت نہیں کر سکتا — اس کا ایک ذرہ دنیا کے میٹھے دریاؤں میں ڈال دیا جائے تو تمام دریا کڑوے ہو جائیں۔ نبی اکرم ﷺ کا دنیا میں مذاق اڑانے والوں کو بھی یہ درخت کھلایا جائے گا۔
اس درخت کے پتوں اور کانٹوں کے علاوہ وہ لوگ جہنم کے پتھر چباتے نظر آئے۔
4. بدکار مرد و عورت
ان کے سامنے دسترخوان لگے ہوئے تھے — ان دسترخوانوں میں سے کچھ میں نہایت بہترین بھنا ہوا گوشت تھا، کچھ میں بالکل سڑا ہوا گوشت تھا۔ وہ اس بہترین گوشت کو چھوڑ کر سڑا ہوا بدبودار گوشت کھا رہے تھے۔
ان کے بارے میں جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو بتلایا:
’’یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جن کے پاس پاک اور حلال عورتیں تھیں، لیکن وہ ان کو چھوڑ کر بدکار عورتوں کے پاس جاتے تھے — یا یہ وہ عورتیں تھیں جن کے خاوند تھے، لیکن وہ ان کو چھوڑ کر بدکار مردوں کے پاس جاتی تھیں۔‘‘
5. سود کھانے والے
ان کا انجام آپ کو یہ دکھایا گیا کہ وہ خون کے دریا میں تیر رہے تھے اور پتھر نگل رہے تھے۔
6. بے عمل عالِم
ایسے عالموں کا انجام دکھایا گیا جو لوگوں کو وعظ کیا کرتے تھے اور خود بے عمل تھے — ان کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، اور جیسے ہی کٹ جاتے تھے، فوراً پیدا ہو جاتے تھے اور پھر اسی طرح کاٹے جانے کا عمل شروع ہو جاتا تھا — یعنی انہیں ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں مل رہی تھی۔
7. چغل خور
ان کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔
🕌 مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی امامت
مسجد اقصیٰ میں انبیاء علیہم السلام کی نماز میں امامت فرمانے کے بعد حضور اکرم ﷺ کو ساتوں آسمانوں کی سیر کرائی گئی — جلیل القدر انبیاء علیہم السلام سے ملاقات کرائی گئی۔
پھر آپ ﷺ کو جنت کا حال دکھایا گیا۔ آپ کا گزر جنت کی ایک وادی سے ہوا — اس سے نہایت بھینی بھینی خوشبو آ رہی تھی اور مشک سے زیادہ خوشبودار ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی اور ایک بہترین آواز سنائی دے رہی تھی۔
وہ آواز کہہ رہی تھی:
’’میرے عشرت کدے میں ریشم، موتی، سونا، چاندی، مونگے، شہد، دودھ اور شراب کے جام و کٹورے بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔‘‘
🕊️ اللہ تعالیٰ کی آواز اور رسول کی مسرت
اس پر اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں:
’’ہر وہ مؤمن مرد اور عورت تجھ میں داخل ہوگا جو مجھ پر اور میرے رسولوں پر ایمان رکھتا ہو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہوگا… نہ مجھ سے بڑھ کر یا میرے برابر کسی کو مانتا ہوگا۔ سن لے… جس کے دل میں میرا ڈر ہے، اس کا دل میرے خوف کی وجہ سے محفوظ رہتا ہے۔ جو مجھ سے مانگتا ہے، میں اسے محروم نہیں رکھوں گا۔ جو مجھے قرض دیتا ہے — یعنی نیک عمل کرتا ہے اور میری راہ میں خرچ کرتا ہے — میں اسے بدلہ دوں گا۔ جو مجھ پر توکل اور بھروسہ کرتا ہے، اس کی جمع پونجی کو اس کی ضرورت کے لیے پورا کرتا رہوں گا۔ میں ہی سچا معبود ہوں — میرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میرا وعدہ سچا ہے، غلط نہیں ہوتا۔ مؤمن کی نجات یقینی ہے — اور اللہ تعالیٰ ہی برکت دینے والا ہے اور سب سے بہترین خالق — یعنی پیدا کرنے والا — ہے۔‘‘
یہ سن کر میں نے کہا:
’’بس — اے میرے پروردگار! میں خوش اور مطمئن ہوں۔‘‘
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں