Top Ad unit 728 × 90

✨📰 خاص مضامین 📰🏅

random

🤍✨🕌📿⭐️سیرت النبی ﷺ قدم بقدم🌴𝟏𝟖🌴


 🤍✨🕌📿⭐️سیرت النبی ﷺ قدم بقدم🌴𝟏𝟖🌴

 سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل  تذکرہ

☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼

✍🏻 عبداللہ فارانی

☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰

*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

*عنوان: "تم وہی ہو"*


مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ایمان لائے۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے پہلے ہی دوست تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ اکثر ان کے گھر آتے اور ان سے باتیں کیا کرتے تھے۔

ایک دن حضرت حکیم بن حزام رضی الله عنہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کی ایک باندی وہاں آئی اور کہنے لگی:

"آج آپ کی پھوپھی خدیجہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کے شوہر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام تھے۔"

حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جونہی حضرت حکیم ؓ کی باندی کی یہ بات سنی، چپکے سے وہاں سے اٹھے اور نبی کریم ﷺ کے پاس آگئے اور آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ اس پر آپ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو وحی آنے کا پورا واقعہ سنایا اور بتایا کہ آپ کو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے۔یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا:

"میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ بالکل سچ کہتے ہیں، آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں ۔" ‏آپ کے اس طرح فوراً تصدیق کرنے کی بنا پر نبی کریم ﷺ نے آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ اس بارے میں دوسری روایت یہ ہے کہ صدیق کا لقب آپ نے انہیں اس وقت دیا تھا جب آپ معراج کے سفر سے واپس تشریف لائے تھے ۔ مکہ کے مشرکین نے آپ کو جھٹلایا تھا۔ اس وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس واقعہ کو سنتے ہی فوری طور پر آپ کی تصدیق کی تھی اور آپ نے انہیں صدیق کا لقب عطا فرمایا تھا۔

غرض ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ نے آپ کی نبوت کی تصدیق فوری طور پر کر دی۔

حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ کا نام نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ رکھا، اس لیے کہ اس سے پہلے اُن کا نام عبدالكعبہ تھا۔ اس لحاظ سے ابوبکر صدیق وہ پہلے آدمی ہیں جن کا نام نبی کریم ﷺ نے تبدیل کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ یوں بھی بہت خوبصورت تھے، اس مناسبت سے آپ ﷺ نے ان کا لقب عتیق کر رکھا تھا۔ عتیق کا مطلب ہے خوبصورت، اس کا ایک مطلب آزاد بھی ہے۔یہ لقب دینے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ان کی طرف دیکھ کر فرمایا تھا:

" یہ جہنم کی آگ سے آزاد ہیں ۔"

غرض اسلام میں یہ پہلا لقب ہے جو کسی کو ملا۔ قریش میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا مرتبہ بہت بلند تھا ۔ آپ بہت خوش اخلاق تھے۔ قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے۔ شریف، سخی اور دولت مند تھے۔ روپیہ پیسہ بہت فراخ دلی سے خرچ کرتے تھے۔ ان کی قوم کے لوگ انہیں بہت چاہتے تھے۔ لوگ ان کی مجلس میں بیٹھنا بہت پسند کرتے تھے۔ اپنے زمانے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ خواب کی تعبیر بتانے میں بہت ماہر اور مشہور تھے۔ چنانچہ علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں :

" نبی اکرم ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس امت میں سب سے بہترین تعبیر بتانے والے عالم ہیں ۔"


علامہ ابن سیرین رحمہ اللہ خوابوں کی تعبیر بتانے میں بہت ماھر تھے اور اس سلسلے میں ان کی کتابیں موجود ہیں، اس کتاب میں خوابوں کی حیرت انگیز تعبیر ہے درج ہیں ۔ ان کی بتائی ہوئی تعبیریں بالکل درست ثابت ہوتی رہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ اس میدان کے ماہر اس بارے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو نبی کریم ﷺ کے بعد سب سے بہتر تعبیر بتانے والے فرما رہے ہیں ۔

ابوبکر صدیق ؓ نسب نامہ بیان کرنے میں بھی بہت ماھر تھے بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس علم کے سب سے بڑے عالم تھے۔ حضرت جبیر بن مطعم بھی اس علم کے ماہر تھے، وہ فرماتے ہیں : 

"میں نے نسب ناموں کا فن اور علم اور خاص طور پر قریش کے نسب ناموں کا علم حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ہی حاصل کیا ہے، اس لئے کہ وہ قریش کے نسب ناموں کے سب سے بڑے عالم تھے۔

قریش کے لوگوں کو کوئی مشکل پیش آتی تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے رابطہ کرتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے: "میں نے جسے بھی اسلام کی دعوت دی اُس نے کچھ نہ کچھ سوچ بچار اور کسی قدر وقفے کے بعد اسلام قبول کیا، سوائے ابوبکر کے، وہ بغیر ہچکچاہٹ کے فوراً مسلمان ہوگئے، ابوبکر سب سے بہتر رائے دینے والے ہیں ۔ میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو حکم دیتا ہے، اپنے معاملات میں ابوبکر سے مشورہ کیا کریں ۔

نبی کریم ﷺ کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ وزیر کے درجے میں تھے۔ آپ ہر معاملے میں ان سے مشورہ لیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں آتا ہے، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں :

"اللہ تعالٰی نے میری مدد کے لئے چار وزیر مقرر فرمائے ہیں ، ان میں سے دو آسمان والوں میں سے ہیں، یعنی جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) اور دو زمین والوں میں سے ایک ابوبکر اور دوسرے عمر (رضی اللہ عنہما)۔"

اسلام لانے سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ایک خواب دیکھا تھا، خواب میں آپ نے دیکھا کہ چاند مکہ میں اُتر آیا ہے اور اس کا ایک ایک حصہ مکہ کے ہر گھرمیں داخل ہو گیا ہے۔ اور پھر سارے کا سارا ابوبکر رضی اللہ والوں کی گود میں آ گیا۔ آپ نے یہ خواب ایک عیسائی عالم کو سنایا۔ اُس نے اس خواب کی یہ تعبیر بیان کی کہ تم اپنے پیغمبر کی پیروی کرو گے جس کا دنیا انتظار کر رہی ہے اور جس کے ظہور کا وقت قریب آگیا ہے اور یہ کہ پیروں کاروں میں سے سب سے زیادہ خوش قسمت انسان ہوں گے۔

ایک روایت کے مطابق عالم نے کہا تھا:

"اگر تم اپنا خواب بیان کرنے میں سچے ہو تو بہت جلد تمہارے گاؤں میں سے ایک نبی ظاہر ہوں گے، تم اس نبی کی زندگی میں اس کے وزیر بنو گے اور ان کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہوں گے۔"

کچھ عرصہ بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو یمن جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ یمن میں یہ ایک بوڑھے عالم کے گھر ٹھہرے۔ اس نے آسمانی کتابیں پڑھ رکھی تھیں ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ کو دیکھ کر اس نے کہا:

میرا خیال ہے، تم حرم کے رہنے والے ہو اور میرا خیال ہے، تم قریشی ہو اور تیمی خاندان سے ہو۔"

ابوبکر صدیق ؓ نے جواب میں فرمایا:

"ہاں ! تم نے بالکل ٹھیک کہا۔"

اب اس نے کہا:

"میں تم سے ایک بات اور کہتا ہوں … تم ذرا اپنا پیٹ پر سے کپڑا ہٹا کر دکھاؤ۔" حضرت ابو بکر صد یق اس کی بات سن کر حیران ہوئے اور بولے:

"ایسا میں اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک کہ تم اس کی وجہ نہیں بتا دو گے۔"

اس پر اس نے کہا:

"میں اپنے مضبوط علم کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ حرم کے علاقے میں ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے - ان کی مدد کرنے والا ایک نوجوان ہوگا اور ایک پختہ عمر والا ہوگا، جہاں تک نوجوان کا تعلق ہے، وہ مشکلات میں کود جانے والا ہوگا، جہاں تک پختہ عمر کے آدمی کا تعلق ہے، وہ سفید رنگ کا کمزور جسم والا ہوگا - اس کے پیٹ پر ایک بال دار نشان ہوگا - حرم کا رہنے والا، تیمی خاندان کا ہوگا اور اب یہ ضروری نہیں کہ تم مجھے اپنا پیٹ دکھاؤ، کیونکہ باقی سب علامتیں تم میں موجود ہیں - 

اس کی اس بات پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا ہٹادیا - وہاں ان کی ناف کے اوپر سیاہ اور سفید بالوں والا نشان موجود تھا - تب وہ پکار اٹھا:

"پروردگارِ کعبہ کی قسم! تم وہی ہو۔

cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

رابطہ فارم

نام

ای میل *

پیغام *

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.