📿 لڑکی والوں کا لڑکے والوں سے جہیز کے لیے رقم کا مطالبہ کرنے کا حکم:
آجکل کئی علاقوں اور قوموں میں یہ رسم بہت زیادہ عام ہوچکی ہے کہ شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی جانب سے لڑکے والوں سےجہیز لینے کے لیے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے، حتی کہ بسا اوقات تو یہ رقم نہ دینے کی صورت میں دلہن کی رخصتی کرانے سے بھی انکار کردیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ لڑکی والوں کی جانب سے لڑکے والوں سے جہیز کے لیے رقم کا مطالبہ کرنا شریعت کی رو سے ناجائز ہے، پھر یہ مطالبہ پورا نہ کرنے کی صورت میں رخصتی نہ کرانا اس مطالبے کو رشوت کی شکل دے دیتا ہے جو کہ حرام ہے۔ اس لیے لڑکی والوں کو چاہیے کہ وہ لڑکے والوں سے ایسا مطالبہ ہرگز نہ کریں۔ مزید یہ کہ اس غیر شرعی رسم کی دیگر متعدد خرابیاں بھی سامنے آجاتی ہیں، اس لیے قومی، قبائلی اور علاقائی سطح پر بھی اس غیر شرعی رسم کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔
☀️ الدر المختار:
(أَخَذَ أَهْلُ الْمَرْأَةِ شَيْئًا عِنْدَ التَّسْلِيمِ فَلِلزَّوْجِ أَنْ يَسْتَرِدَّهُ)؛ لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ.
☀️ رد المحتار على الدر المختار:
(قَوْلُهُ: عِنْدَ التَّسْلِيمِ) أَيْ بِأَنْ أَبَى أَنْ يُسَلِّمَهَا أَخُوهَا أَوْ نَحْوُهُ حَتَّى يَأْخُذَ شَيْئًا، وَكَذَا لَوْ أَبَى أَنْ يُزَوِّجَهَا فَلِلزَّوْجِ الِاسْتِرْدَادُ قَائِمًا أَوْ هَالِكًا؛ لِأَنَّهُ رِشْوَةٌ، «بَزَّازِيَّةٌ». (بَابُ الْمَهْرِ)
☀️ رد المحتار على الدر المختار:
وَمِنَ السُّحْتِ: مَا يَأْخُذُهُ الصِّهْرُ مِنَ الْخَتَنِ بِسَبَبِ بِنْتِهِ بِطِيبِ نَفْسِهِ حَتَّى لَوْ كَانَ بِطَلَبِهِ يَرْجِعُ الْخَتْنُ بِهِ، «مُجْتَبًى». (كِتَابُ الْحَظْرِ وَالْإِبَاحَةِ: فَصْلٌ فِي الْبَيْعِ)
✍🏻۔۔۔ مفتی مبین الرحمٰن صاحب مدظلہم
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں