KhalidAS has just posted in the Likhne Main Kiya Harj Hai forum of ITDarasgah.com - Urdu Forum for IT Education & Information under the title of امّتِ وسط کا مزاج کچھ نرالا ہے.
This thread is located at http://www.itdarasgah.com/showthread.php?t=90766
Here is the message that has just been posted:
***************
:bism1:
:th_salam:
مندرجہ ذیل تبصرہ ممبئی کے اک مقامی اردواخبار کو ارسال کیا گیا ہے اور یہاں قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
نہ چھیڑو بادِ بہاری کو سرکش لہروں
یہ جو بگڑی تو سمندر تہ و بالا ہوگا
امّتِ وسط کا مزاج کچھ نرالا ہے
اٹھا دے ہات تو تہ عالم و بالا ہو گا
عالمی پس منظر میں دیکھا جائے تو امتِ وسط سوئی نہیں ہے اور یہ بھی صیح ہے کہ ابھی پوری طرح جاگی بھی نہیں ہے۔ خال خال نظر آتا ہے کہ جاگنے کی کوشش میں سرگرداں ہے۔ انشاءاللہ پوری طرح جاگ بھی جائیگی البتّہ نظامِ فطرت سے فرار ناگزیر ہے۔ ایسی کوششوں کا ثبوت مختلف ممالک کے علاوہ وطنِ عزیز میں بھی نظر آتا رہتا ہے۔ بالخصوص جب کوئی امتی بے لوث ہو اور پسِ پردہ کوشش کررھاہو۔ پسِ پردہ کوشش کرنے والوں میں سیاسی ذوق رکھنے والے بھی ہوتے ہیں جن میں کچھ بے پردہ ہو جاتے ہیں اور کچھ تصویر کے پردے میں بھی عریاں دکھائی دیتے یں۔
موجودہ سیاست میں بھی صاحبِ کردار حضرات پائے جاتے ہیں لیکن انکی تعداد نا کہ برابر مانی جاتی ہے۔عموماً سیاسی ذوق رکھنے والے حضرات ذاتی مفادات کے مارے ہوتے ہیں اور امت کے تئیں انکا کوئی ہدف یا انکی کوئی منزل نہیں ہوتی۔انکی مثال لوکل ٹرین میں تفریحاً سوار ہونے والوں کی طرح ہوتی ہے جو اکثر بغیر ٹکٹ بھی سوار ہو جاتے ہیں۔ نہ کارواں کی سمجھ نہ منزل کا پتہ۔ ایسے ہی چند امتی ہیں جو بی جے پی کی ٹرین میں نظر آتے ہیں جسکا اپنا ہدف اور اپنی منزل سفر میں طے ہونا باقی ہے۔ایسے حضرات کی تاریخ اور جغرافیہ کا معائنہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا شجرہ کہیں نہ کہیں کسی اعلی خاندان سے ملتا ہے اور اپنے آباء و اجداد کے روشن ماضی کی مشعل تھامے یہ حضرات اپنا تاریک حال و مستقبل تابناک کرنے نکلے ہیں۔اب انھیں کون سمجھائے کہ ۔۔تاریکی خود کچھ نہیں، نور کی بے رخی ہے محض۔
ابھی حال ہی میں ایک حاجی صاحب کا بیان اک اردو اخبار کی زینت بنا تھا کہ بی جےپی اردو کے فروغ کے لئے آواز اٹھانے والی اور مسلمانوں کی سچّی ہمدرد جماعت ہے۔ پڑھکر پہلے تو بہت ہنسی آئی پھر اپنی بے بسی پر بہت رونا آیا ۔ چند لفظوں سے بُنا ہوا اک جال چلتی ٹرین سے یہ کہکر پھینک دیا کے ہم تو آگے چلے اب امت اسکے تانے بانے بنتے رہے۔ ان چاروں الفاظ کو ہم نے ہر زاویہ سے پرکھا اور پھر ان حاجی صاحب کی شخصیت کو بھی۔ لاحول بھیجنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ پتہ نہیں ایسے حضرات کو اپنے آگے پیچھے حاجی صاحب اور نہ جانے کیسے کیسے تتمہ لگانے کا شوق ہوتا ہے۔ خیر یہ صاحب تو اپنی اوقات میں (ہمارا مطلب ہے وقت کی پابندی میں) اپنے ساتھیوں سے پیچھے ہیں بلکہ بہت پیچھے ہیں۔دیگر ساتھیوں کا کیا کہنا وہ توبی جےپی کے مرکزی معاملات میں عمل دخل رکھتے ہیں۔ ان میں ایک حضرت مرتبہ اور مقام میں نہ مختار نہ قوی اور دوسرے جو ہیں وہ شاہوں کے نوازے ہو ئے ہیں۔ اول الذکر کو ایک بار منی شنکرائییر جیسے غیر مسلم کانگریسی رہنما نے اک ٹی وی شو میں یہ وعیدسنادی کہ میں حشر میں تمہارا گریبان پکڑوں گا۔ بی جے پی کے مسلم لیڈروں میں اک محترمہ بھی ہیں جن کا شجرہ مولانا ابوالکلام آزاد سے ملتا ہے۔ ایسا ذرائع ابلاغ نے کہا ہے۔ ان محترمہ نے خود کبھی دعوٰی نہیں کیا لیکن انکا صریح انکار بھی کبھی سامنے نہیں آیا۔ سارا کمالِ فن ٹی وی میڈیا کا ہے۔ جسے چاہا اٹھا دیا جسے چاہا گرا دیا۔ کبھی کبھی تو خود کی نظروں سے بھی۔
خیر ایسے چھوٹے بڑے کئی امتی ہیں جو بشمول کانگریس کے مختلف پارٹیوں سے ہیں اور سیاسی گلیاروں میں مداری کی طرح اکثر نظر آتے ہیں۔ ویسے مداری کا تماشا کرنا کوئی آسان کام نہیں۔اک فن ہے اور جلد ہی شاید اسے فنونِ لطیفہ میں شامل کر لیا جائے۔اس فن کی اک شاخ ہے جسے فنِ موازنہ کہا جائے تو کوئی قباحت نہیں ۔ بہت سے سیاسی مداری اس فن میں یدِ طولی رکھتے ہیں۔ بالخصوص بی جے پی لیڈر ۔ انگریزی میں ایپل ٹو ایپل میچ کہتے ہیں ۔ سیب سے سیب کا موازنہ۔ پھر چاہے وہ کشمیری سیب سے شملہ یا آسٹریلیائی یا امریکی سیب کا موازنہ کریں۔ انھیں بس سیب سے سیب کا موازنہ کرنا ہے۔ اک موازنہ ہے جو اکثر بی جے پی لیڈر کرتے رہتے ہیں کہ آدھی صدی سے زیادہ کانگریس نے مسلمانوں کو بیوقوف بنایا ہے اور ہمیں تو ابھی صرف 20 ۔25 سال ہی ہوئے ہیں۔ (پتا نہیں سیاست میں آئے ہوئے یا بیوقوف بناتے ہوئے)۔ ویسے کانگریس کی مسلمانوں کے ساتھ طوطا چشمی کا اعتراف خود کئی کانگریسی رہنماؤں نے کیا ہے۔
ایسے بہت سے موازنے ہیں جو بی جے پی اپنی بےمنزل کی ٹرین سے اچھالتی رہتی ہے اور ہندوستانی مسلمان اک اچٹتی سی نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔تعجب تو تب ہوتا ہے جب ایسی اچٹتی نظر کو بی جے پی کا کوئی مسلم لیڈر "چشمِ قاتل" سمجھ کر گھائل ہونے کادعوٰی کرتا ہے۔بھئی اچھا یک طرفہ عشق پال رکھا ہے بلکہ میر اور غالب کی طرح عشق میں پوری زندگی دے دی جا رہی ہے اور اک عالم کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہے۔ آگ سے یاد آیا کہ بہت سی آگ جو لگائی گئی ہے وہ بھی یک طرفہ ہی ثابت ہوئی ہے۔یہ اور بات ہے کہ یہ آگ بڑھکر چاروں سمت پھیل گئی ہے۔کہیں کہیں تو دلوں تک پہنچ چکی ہے۔ کچھ کہنہ مشق اور "صاحبِ فانی" سیاسی لیڈروں نے دلوں کی آگ بجھانے کی کوشش بھی کی تھی۔ لیکن کیا کریں کہ گزرتی عمر کے ساتھ اعصاب اور اعضاء دونوں جواب دے چکے۔ ان میں چند لیڈروں نے قلم کا سہا را لیا تو چند اس لگی کو بجھانے کے چکر میں مصنف بن بیٹھے۔ اور پھر ان کے دلوں نے دماغ کی ساری نقطہ آرائیوں کو طاق پہ رکھ کر ساری حقیقت اگل دی اور دبے لفظوں ہی سہی مسلمانوں کے حق میں بیان دیا۔ بس پھر کیا تھا لوگوں نے ،،خرد کو روتے جنوں میں کئی بار دیکھا ،، ۔ جو سچائی دبے لفظوں سامنے آئی تھی وہ میڈیا نے خبروں کے بیچ دبا کر رکھ دی۔
در اصل ٹی وی میڈیا کا "فریم آف مائینڈ" ٹی وی کے فریم کی طرح جامد ہو چکا ہے۔ زیادہ تر ٹی وی صحافی حقیقت جاننے کے باوجو بھی بولنے سے اغماض برتتے ہیں۔ ان کو چند دن پرنٹ میڈیا میں طبع آزمائی کا موقع دینا چاہیے جہاں "فریم آف مائینڈ" کا عمل دخل نا کے برابر ہوتا ہے۔ جہاں زیادہ تر خبریں تحقیق، تنقید اور تبصرے پر مبنی ہوتیں ہیں۔ تاثرات اور بولنے کی آزادی کے ساتھ۔ تاثر کشید کر لفظوں میں ڈھالنا ہوتا ہے۔ چہرہ یا منہ دکھائی نہیں ہوتی۔ ٹی وی صحافی حضرات کا اک اور المیہ ہے کہ رفتہ رفتہ یہ کسی فلم یا سیریل کا کردار لگنے لگتے ہیں۔ یہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ ان کا کام سچی خبروں کو تاثرات کے جامہ میں پیش کرنا ہے نا کہ تاثرات کو خبروں کے جامہ میں۔ یہی وجہ ہے اکثر یہ جامہ سے باہر آجاتے ہیں۔
امت کے حالات سے بات شروع ہوئی تھی۔ زیادہ دور نہیں گئی۔ویسے بھی آجکل بات دور کہاں جاتی ہے۔گھوم پھر کر واپس امت پر ہی آجاتی ہے۔بیچاری امت۔عّلامہ نے جس دور میں اسے امتِ مرحومہ کہا ہوگا اس وقت ممکن ہے یہ لقب صحیح رہا ہو۔ اب تو یہ کچھ کچھ خوابیدہ لگتی ہے۔امتِ خوابیدہ اور اسکے بعد کا مرحلہ شاید ہوگا امتِ زخم خوردہ اور تب کہیں جاکر یہ صحیح معنوں میں امت محّمدی بن جائیگی ۔ کچھ بھی کہو یہ امت آخری مرحلہ کی طرف گامزن ضرور ہے۔اب یہ کوئی خوش فہمی نہیں رہی۔ زمینی حقائق اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بزرگوں کو جو پچاس سے زیادہ بہاریں دیکھکر خزاں رسیدہ ہوچکے،جن میں ہم جیسے بھی شامل ہیں، اگر معاف کر دیا جائے نو علاوہ انکے نو جوانانِ عالمِ اسلام کی حالت اب بادِ بہاری کی طرح ہو گئی ہے۔ بادِ بہاری کی مثال ہی ہمیں مناسب لگی کیونکہ کشتی اور کارواں کی مثال پیش کرنے میں اک عدد ملاّح یا امیر یا رہنما کا شامل ہونا ضروری ہوتا۔ بہر حال امت کے یہ نوخیز جستجو، علم و عمل، محنت، کوشش، اولالعزمی، سمجھ بوجھ، صبر و تحمّل غرض کہ ہر طرح کہ ہتھیار سے لیس ہے۔فضا کے یہی تیور ہو تے ہیں جب بہار کی آمد کا احساس ہو تا ہے۔گمشدہ لیلائے تہزیب کا سرا ہاتھ لگےگا اور پھر اسکے رنگ میں رنگنے کا سلسلہ شروع ہوگا۔ انہیں میں سے وہ رہنما بھی ہوگا جو اس بادِ بہاری کو اک صحیح رُخ عطا کرے گا۔ یہ دنیا تہزیب اور امن کے صحیح مفہوم کو جان جائیگی۔وہ وقت دور نہیں اور نہ ہی اتنا قریب کہ اب آیا تب آیا۔ابھی دورِ آزمایش کی آخری منزل بھی آنی باقی ہے۔ اچھے اچھوں کے قدم ڈگمگا جائیں گے۔آخر کار قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ہمارا آپ کا کردار اس میں اس کے سوااور کیا ہوگا کہ اپنی سی کوشش کرتےرہیں۔ زیادہ کر نےکا یارا کہاں ہوتا ہے۔ لوگ باگ دعوٰے تو کرتے رہتے ہیں کہ استطاعت سے سوا کیا ہے۔نعوذباللّہ۔ استطاعت سے زیادہ خالق نے کسی کو مکلّف ہی کہاں کیا ہے۔ آئیے مل کر امت کی بہتری کے لئے ہاتھ اٹھائیں۔ یہ ہاتھ اٹھانا دعا کے مفہوم کے علاوہ دوسرے مفہوم میں نہیں لیا جانا چاہیے ۔ دعا میں کلمہء طیّبہ کا شامل ہونا تجدیدِ ایماں اور تجدیدِ وفا کا باعث ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اسےصرف جنت میں داخلہ کی پرچی سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ امتحان میں داخلہ کی ۔ آخرالذکر لوگ صحیح ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنھیں شانِ باطل پہ شکوہ نہیں ہونا چاہئے اورنہ ہی اس پر پیچ و تاب کھانا صحیح ہے۔ جنھوں نے امتحان میں داخلہ ہی نہیں لیا انھیں تو مزے میں ہی رہنا ہے۔ آیئے اب اس امتحان سے گزرتے ہیں۔ اور حق کی جستجو جاری رکھتے ہیں۔
نشّہءجستجورہنےدے حشر تک یارب
پھر وہاں کون تجھے ڈھونڈنے والا ہوگا
***************
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں