مکی سورت ہے۔ اٹھاسی آیتوں اور پانچ رکوع پر مشتمل ہے۔
قرآن کریم کے ’’کتاب نصیحت‘‘ ہونے کے بیان کے ساتھ ہی منکرین توحید کے لئے عذاب الٰہی کی وعید اور پھر انبیاءؑ کا ذکر جس میں اختصار اور تفصیل کی دونوں صنعتوں کی جھلک دکھائی گئی ہے۔ قوم نوح، فرعون، عاد، ثمود کا اپنے انبیاء سے مقابلہ اور ان قوموں کی ہلاکت کا دل آویز اختصار کے ساتھ بیان کرنے کے بعد داؤد و سلیمان کا تفصیلی ذکر۔ حضرت داؤد کی دستکاری، انابت الی اللہ اور خوش الحانی سے تلاوت زبور جس میں پہاڑ اور پرندے بھی ساتھ چہچہانے لگ جاتے۔ پھر دو افراد کا تمام سرکاری حفاظتی انتظامات کو نظر انداز کر کے دیوار پھلانگ کر آنا اور مسئلہ پوچھ کر آسمان کی طرف چلے جانا، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ یہ عام انسان نہیں فرشتے تھے جو کہ آزمائش کے لئے اترے تھے۔
اس پر داؤدؑ کا اپنے انتظامات کی بجائے اللہ پر اعتماد و توکل کا بڑھ جانا اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور اچھے انجام کی نوید مذکور ہے۔ پھر سلیمانؑ ان کے بے پناہ وسائل، اصیل گھوڑے، ہواؤں کی تسخیر اور صبح و شام کا ہوائی سفر اس کے باوجود اللہ کے سامنے ان کی عجز و انکساری اور اللہ کی طرف سے مقربین بارگاہ میں شمولیت اور اچھے انجام کی نوید ہے۔
پھر ایوبؑ اور بیماری اور تکلیف میں ان کا صبر و استقامت اور اللہ کی طرف سے ان کے نقصانات کے ازالہ کا تذکرہ اور ان کی رجوع الی اللہ کی صفت کی تعریف کی گئی ہے۔ پھر اختصار کے ساتھ ابراہیم، اسحاق، یعقوب، اسماعیل، یسع، ذوالکفلؑ کا تذکرہ اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کے جنت میں اعزازو اکرام کا ذکر ہے جبکہ نافرمانوں کے عذاب اور سزا کا تذکرہ ہے۔ پھر دعوت توحید ہے اور قصۂ آدم و ابلیس کو بیان کرنے کے بعد آخر میں قرآن کریم کے ’’کتاب نصیحت‘‘ ہونے کا اعادہ اور قرآنی تعلیمات کی حقانیت روز قیامت ہر شخص کو کھلی آنکھوں نظر آنے کا اعلان ہے۔
٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں